شدت پیاس میں پانی پی لیا تو کیا حکم ہے
(سوال ۱۴۴) ہندہ کو رمضان میں پیچس ہورہی تھی ، سو یاں توڑ تی تھی ، اس کو روزہ میں پیاس شدت کی لگی تو پانی پی لیا۔ ہندہ کو یہ معلوم نہ تھا کہ رمضان کا روزہ توڑنے سے کفارہ ساٹھ روزہ لگاتار رکھنے پڑتے ہیں اب ہندہ ایک روزہ رکھے یا کفارہ واجب ہے اور کفارہ کے روزوں میں ایام حیض و نفاس اور ایام بیماری مستثنیٰ ہیں یا از سر نو روزہ رکھنا شروع کرے ۔فقط۔
(جواب) اگر ہندہ روزہ رکھ سکتی تھی اور مرض ایسا نہ تھا جس میں روزہ نہ رکھ سکے اور اس نے عمداً روزہ یا د ہوتے ہوئے پانی پی لیا اس کے ذمہ قضاء اور کفارہ لازم ہے ۔(۱) اور کفارہ افطار کے روزوں میں حیض کا آنا مانع تتابع سے نہیں ہے ۔ بعد انقطاع حیض کے فوراً پھر روزہ رکھنا شروع کرے ۔ حیض سے پہلے روز بھی شمار میں آجائیں گے اور نفاس مانع تتابع سے ہے ، یعنی نفاس کے بعد از سر نو دو ماہ کے روزے رکھنا ضروری ہے ۔ کذا فی الدر المختار ۔(۲) فقط۔
رمضان کے قضا روزے توڑنے سے کفارہ لازم آتا ہے
(سوال ۱۴۵) زید کے ذمہ رمضان شریف کا روزہ تھا ، اس نے شوال میں وہ روزہ رکھ کر توڑ دیا تو قضاء آوے گی یا کفارہ ساٹھ روزوں کا آوے گا۔
(جواب) قضائے رمضان کے روزے کے توڑنے سے کفارہ نہیں آتا(۳)
مسافر سفر میں انتقال کر گیا تواس کے روزہ کا کیا حکم ہے
(سوال ۱۴۶) ایک شخص رمضان شریف میں مسافر ہو اور روزہ نہیں تھا ، وہ انتقال کر گیا ، اس کے روزہ کا کیا حکم ہے ۔
(جواب) اس کے ذمہ قضاء روزہ کی لازم نہیں ہوئی اور فدیہ یا وصیت بالفدیہ بھی لازم نہیں ہوتی ۔ (۴) فقط۔
لواطت سے کفارہ و قضا دونوں لازم آتے ہیں
(سوال ۱۴۷) زید نے ماہ رمضان المبارک میں کسی لڑکے سے لواطت کی ، انزال بھی ہوگیا ۔ اب زید پر قضاء رمضان شریف کے روزہ کی آوے گی یا کفارہ بھی آوے گا۔
(جواب) اس صورت میں قضاء وکفارہ دونوں لازم ہیں ۔ (۵) فقط۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)وان جامع الخ اواکل او شرب غذاء الخ اودواء الخ عمداً الخ قضی فی الصور کلھا وکفر (الدر المختار علی ہامش رد المحتار باب مایفسد الصوم ج ۲ ص ۱۴۷ و ج ۲ ص ۱۴۹۔ط۔س۔ج۲ص۴۰۹) ظفیر۔
(۲)صام شھرین الخ متتابعین قبل المسیس الخ وکذا کل صوم شرط فیہ التتابع فان افطر بعذر کسفرو نفاس بخلاف الحیض الخ او بغیرہ او وطئھا الخ ، استانف الصوم (در مختار) قولہ بخلاف الحیض فانہ لا یقطع کفارۃ قتلھا وافطار ھا لا نھا لا تجد شھرین خالیین عنہ الخ ( رد المحتار باب الکفارۃ ج ۲ ص ۷۹۹ و ج ۲ ص ۸۰۰۔ط۔س۔ج۲ص۴۷۶) ظفیر۔
(۳)وان جامع الخ فی رمضان ادا ء لما مر (در مختار) ای من ان الکفارۃ انما وجبت لھتک حرمۃ شھر رمضان فلا یجب یا فسادقضائہ ولا بافساد صوم غیرہ ( رد المحتار باب مایفسد الصوم ج ۲ ص ۱۴۷۔ط۔س۔ج۲ص۴۰۹) ظفیر۔
(۴) فان ما توا فیہ ای فی ذالک العذر فلا تجب علیھم الوصیۃبالفدیۃ لعدم ادراکھم عدۃ من ایام اخر (در مختار) ای فلم یلزمھم القضاء و وجوب الوصیۃ فرع الزوم القضاء ( رد المحتارفصل فی العوارض المبیحۃ ج ۲ ص ۱۶۰۔ط۔س۔ج۲ص۴۲۳) ظفیر۔
(۵)وان جا مع المکلف ادمیا مشتھی فی رمضان اداء او جو مع وتوارت الخشفۃفی احد السبیلین ای القبل اوالد برو ھوالصحیح فی الدبرو المختار انہ بالا تفاق الخ ( رد المحتار باب ما یفسد الصوم ج ۲ ص ۱۴۷۔ط۔س۔ج۲ص۴۰۹) ظفیر۔