(جواب) اس صورت میں باپ کی زکوٰۃ کے ادا ہونے کی یہ صورت ہے کہ لڑکا باپ سے اجازت لے لے کہ میں تمہاری طرف سے زکوٰۃ اد اکر دیا کروں یا یہ کہ روپیہ منگانے کے بعد یا پہلے اس کو اطلاع کر دے اور اجازت لے لے اور اگر روپیہ منگانے سے پہلے اجازت طلب کرنے میں احتمال ہو کہ باپ شاید اجازت نہ دے تو روپیہ منگانے کے بعد اس کو اطلاع کرے اور اجازت طلب کرے کہ میں آپ کی طرف سے زکوٰۃ ادا کرتا ہوں اس کے بعد محتاجوں کو باپ کی طرف سے زکوٰۃ کی نیت سے وہ رقم دے دیوے۔ (۱)
زکوٰۃ دینے والا فقیر سے کہے کہ ﷲ یہ رقم میرے بیٹے کو دے دو تو زکوٰۃ ادا ہوگئی یا نہیں
(سوال ۱۱۶)اگر عوام یہ حیلہ کریں کہ کسی مصرف زکوٰۃ کو زکوٰۃ دے کر یہ کہے کہ تم میرے بیٹے کو ﷲ دے دو تو انہیں اس حیلہ کی اجازت ہوگی یا نہیں ۔ اور زکوٰۃ ادا ہوجاویگی یا نہیں ۔
(جواب) یہ حیلہ جائز ہے اور زکوٰۃ ادا ہوجاوے گی ۔ کذافی الدر المختار۔ (۲)
زکوٰۃ نکال کر علیٰحدہ کر دے اور بتدریج خرچ کر ے تو کیا حکم ہے
(سوال ۱۱۷)اگر زکوٰۃ نکال کر علیٰحدہ رکھ لی جائے بطور امانت کے اور پھر اس کو آہستہ آہستہ مستحق اشخاص کو دیتا رہے یہ جائز ہے یا نہیں ۔
اگر زیادہ خرچ ہوجائے تو زیادہ آئندہ کی زکوٰۃ میں محسوب ہوگا یا نہیں
(سوال ۱۱۸) اگر ا س رقم سے زائد خرچ ہوجاوے تو اس زیادہ خرچ شدہ رقم کو آئندہ سال کی زکوٰۃ میں محسوب کرسکتا ہے یا نہیں ۔
(جواب) (۱)یہ جائز ہے کذافی الدرالمختار ۔ (۳)
(۲)اگر زائد رقم بہ نیت زکوٰۃ دی گئی تو وہ سال آئندہ کی زکوٰۃ میں محسوب ہوجاوے گی کما فی الدر المختار ولو عجل ذونصاب زکوٰۃ سنین او لنصب صح ۔ (۴) الخ۔
قرض کی زکوٰۃ اگر ادا کرتا رہے تو ادا ہوگی یا نہیں
(سوال ۱۱۹) زید نے بکر کو پانچ سو روپیہ قرض دیا اور اس کی زکوٰۃ سالانہ ادا کرتا ہے کیا زکوٰۃ ادا ہوجاتی ہے یا وصولی ہونے پر کل مدت کی زکوٰۃ لازم ہوگی ۔
(جواب) ادا ہوجاتی ہے ۔(۵) الخ فقط۔
آلات پر زکوٰۃ ہے یا نہیں
(سوال ۱۲۰) آلا ت پر زکوٰۃ ہے یا نہیں ، جیسے سلائی کی مشین وغیرہ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)وشرط صحۃ ادائھا نیۃ مقارسنۃ لہ ای للاداء ولوکانت المقارنۃ حکما کما لودفع بلا نیۃ ثم نوی الخ (الدر المختار علی ہامش ردا لمحتار کتاب الزکوٰۃ ج ۲ ص ۱۴۔ط۔س۔ج۲ص۲۶۸) ظفیر(۲)وحیلۃ التکفین التصدق بھا علی فقیر ثم ھو یکفن فیکون الثواب لھما وکذا فی تعمیر المسجد (الدر المختار علی ہامش رد المحتار کتاب الزکوٰۃ ج ۲ ۱۶۔ط۔س۔ج۲ص۲۷۱)ظفیر۔(۳)او مقارتۃ بعزل ما وجب کلہ او بعضہ ولا یخرج عن العھدۃ بالعزل بل بالا داء للفقراء (ایضاً ج ۲ ص ۱۵)(۴)الدر المختار علی ہامش رد المحتار باب زکوٰۃ الغنم ج ۲ص۳۶۔ط۔س۔ج۲ص۲۶۹-۲۷۰) ظفیر(۵)ولو عجل ذو نصاب زکوٰتہ اسنین او لنصب صح لو جود السبب الخ (الدر المختار علی ہامش رد المحتار باب زکوٰۃ الغنم ج ۲ ص ۳۶۔ط۔س۔ج۲ص۲۶۶) ولو کان الدین علی مقر الخ فو صل الی ملکہ لزم زکوٰۃ مامضی (کتاب الزکوٰۃ ج ۲ ص ۱۲۔ط۔س۔ج۲ص۲۹۳) ا س سے معلوم ہو اکہ ا گر وہ سال بسال دیتا رہا تو مزید دینے کی ضرورت نہیں واﷲ اعلم ۱۲۔