ولد الزنا صحیح النسب کا ہم کفو نہیں ہے
(سوال ۱۱۵۹) زید ولد الزنا ہے اس کے اقارب اس کے نکاح کرنے سے عار کرتے ہیں زیدمذکور کفو ہوسکتا ہے یا نہیں ؟
(الجواب ) ولد الزنا کفو ولد الحلال اور ثابت النسب کا نہیں ہوسکتا لیکن اگر باپ اپنی دختر نابالغہ کا نکاح غیر کفو سے کردیوے تو نکاح صحیح ہوگا یا خود دختر بالغہ ولی کی اجازت سے اگر اپنا نکاح غیر کفو سے کرلیوے تب بھی نکاح صحیح ہوجاتا ہے ۔ (۱)
نابالغہ لڑکی کا نکاح غیر کفو میں کردے تو جائز ہے
(سوال ۱۱۶۰) زید نے (جو کہ شیخ فاروقی ہے ) اپنی نابالغہ لڑکی کا نکاح عمر سے ( جس کا تین پشت سے اسلام ہے کردیا ہے یہ لڑکا اس لڑکی منکوحہ کا کفو ہے یا نہیں اس لڑکی کو نکاح کے فسخ کا اختیار بالغہ ہونے پر ہے یا نہیں ؟
(الجواب ) وہ لڑکا زیدکی دختر کا کفو نہیں ہے لیکن باپ اگر اپنی دختر نابالغہ کا نکاح غیر کفو سے کردیوے تو صحیح ہے (۲) اور نابالغہ بعد بالغہ ہونے کے اس نکاح کو فسخ نہیں کراسکتی۔ کذافی الدرالختار والشامی (۳) فقط
سید و شیخ ہم کفو ہیں یا نہیں ؟
(سوال ۱۱۶۱) غیر کفو مرد اور عورت میں نکاح بغیر اجازت عورت کے باپ کے ہوسکتا ہے یا نہیں خواہ عورت بیوہ ہو یا کنواری‘ عورت سیدانی ہو اور مرد شیخ ہو یہ غیر کفو ہے یا نہیں ؟
(الجواب) سید اور سیخ ہم کفو ہیں غیر کفو نہیں ہیں جیسا کہ کتب فقہ میں تصریح ہے کہ قریش باہم کفو ہیں اور سید اور شیوخ خواہ صدیقی ہو ں یا فاروقی یا عثمانی سب قریش ہیں (۴)پس اگر عورت سیدانی بالغہ خواہ باکرہ ہو یا ثیبہ شوہر شیخ سے نکاح برضاء خود کرلے تو وہ نکاح صحیح ہے باپ اس کو توڑ نہیں سکتا کما فی الدرالمختار فنفذ نکاح حرمۃ مکلفۃ بلا رضاء ولی الخ (۵) فقط
--------------------------
(حاشیہ صفحہ گزشتہ ) دونہ فی الولایۃ حق الفسخ الخ وکذا اذا زوجہا احدالاولیاء برضاہا کذافی المحیط (عالمگیری باب خامس باب الاکفاء والکفاء ۃ ج ۲ ص ۱۷طبع ماجدیۃ ج۱ص۲۹۳) اذا زوجہامن رجل عرفہ غیر کفوء فعتد ابی حنیفۃ یجوز لان الاب کامل الشفقۃ واقر الرای فالظاہر انہ تامل غایتہ التامل ووجد غیر الکفو اصلح من الکفوء کذافی المحیط ( ایضاً ج ۲ ص ۱۶طبع ماجدیۃ ج۱ص۲۹۱) ظفیر
( ۱) قولہ بعدم جوازہ الخ وہذا اذا کان لہا ولی ولم یرض بہ قبل العقد فلا یفید الرضا بعدہ واما اذا لم یکن لہا ولی فہو صحیح نافذ مطلقاً اتفاقاً ( رد المحتار باب الولی ج ۲ ص ۴۰۹۔ط۔س۔ج۳ص۵۷) ظفیر
( ۲) و یفتی فی غیر الکفو بعدم جوازہ اصلا( درمختار ) ہذہ روایۃ الحسن عند ابی حنیفۃ وہذا اذا کان لہا ولی لم یرض بہ قبل العق الخ فلا بد حینئذٍ لصحۃ العقد من رضاہ صریحاً( رد المحتار باب الولی ج ۲ ص ۴۰۹۔ط۔س۔ج۳ص۵۶) ظفیر( ۳) لو فعل الاب اوالجد عند عدم الاب لا یکون للصغیر والصغیرۃ حق الفسخ بعد البلوغ ( ردالمحتار باب الولی ج۲ ص ۴۲۰ ‘ ظفیر( ۴) فقریش بعضہم اکفاء لبعض الخ والعرب بعضہم اکفاء لبعض الانصاری والمہاجریی فیہ سواء کذافی فتاویٰ قاضی خان( عالمگیری مصطفائی الباب الخامس فی الاکفاء ج ۲ ص ۱۵طبع ماجدیۃج۱ص ۲۹۰) ظفیر( ۵) الدرالمختار علی ہامش رد المحتار باب الولی ج ۲ ص ۴۰۷ ‘ ظفیر