ساڑھے اکتیس ماشہ چاندی کے برابر ہے‘ چاندی کی قیمت گھٹتی بڑھتی رہتی ہے اس لئے ہر زمانہ میں سکہ رائج الوقت سے مہر شرعی کی مقدار مختلف ہوگی‘ آج کل ساڑھے چھ روپے تولہ چاندی بکتی ہے تو اس حساب سے اس کی قیمت سترہ روپے زیادہ ہوگی لہذا اس سے کم موجودہ دور میں مہر جائز نہ ہوگا‘ ظفیر)
نابالغ پر مہر لازم ہے یا نہیں ؟
(سوال ۱۲۹۸) نابالغ لڑکے پر مہر واجب ہوتا ہے یا نہیں ؟ یا نابالغ کے باپ پر مہر لازم ہے ؟
(الجواب ) مہر نابالغ لڑکے پر لازم ہوا اگر باپ اس کا ذمہ دار ہوگیا تھا تو باپ سے وصول ہوسکتاہے۔ (۱) فقط
نابالغ کی بیوی مہر کا دعویٰ کس پر کرے؟
(سوال ۱۲۹۹) اگر لڑکا لڑکی کو چھوڑ دے تو مہر کا دعویٰ کس پر ہوسکتا ہے ؟
(الجواب ) نابالغ لڑکا طلاق نہیں دے سکتا بعد بلوغ کے طلاق دے سکتا ہے مہر کا دعویٰ لڑکے یعنی شوہر پر ہوگا اور اگر باپ ذمہ دار ہوا ہے تو باپ بھی ہوسکتا ہے ۔ (۲) فقط
باپ ضامن ہو تو اس سے مہر کا مطالبہ کیا جائے گا
(سوال ۱۳۰۰) لڑکا نابالغ ہے اور باپ کی اجازت سے مہر مقرر ہوا تھا اور نابالغ کے دستخط بھی کرائے گئے تھے‘ اس صورت میں مہر کس پر واجب ہے اور کس سے لینا چاہئیے ؟
(الجواب ) دستخط ہوئے یا نہ ہوئے لڑکا دراصل ذمہ دار مہر کا ہے اگر باپ ضامن ہوگیا تھا تو اس سے مہر لیا جاوے گا۔ (۳) فقط
شوہرپر مہر کس عمر میں واجب ہے؟
(سوال ۱۳۰۱) لڑکے پر کس وقت اور کس عمر میں مہر واجب ہوتا ہے ؟
(الجواب) مہر کے واجب ہونے کے لئے بلوغ لڑکے کا شرط نہیں ہے نابالغ کے ذمہ بھی مہرلازم ہوجاتا ہے۔ (۴) فقط
-----------------------
(۱) اذا زوج ابنتہ الصغیر امراۃ و ضمن عنہ المہر وکان ذلک فی صحتہ جاز ( الی قولہ ) ثم للمرأۃ ان تطالب الولی
بالمہر( عالمگیری کشوری ج ۲ ص ۳۳۹طبع ماجدیۃ ج۱ ص ۳۲۶) ظفیر
( ۲) لا یقع طلاق ( الی قولہ ) الصبی ولومراہقا( الدرالمختار ج ۲ ص ۲۱۷۔ط۔س۔ج۳ص۲۴۲تا ۲۴۳) ظفیر
( ۳) من سمی المہر عشرفما زاد فعلیہ المسمی ان دخل بہا او مات (الی ان قال ) وان طلقہا قبل الدخول والخلوۃ فلہا نصف المسمی ( ہدایہ ج ۲ ص ۳۰۴) اذا زوج ابنتہ الصغیر امراۃ و ضمن عنہ المہر ( الی قولہ ) للمراۃ ان تطالب الولی بالمہر ( عالمگیری کشوری ج ۲ ص ۳۳۹ طبع ماجدیہ ج۱ص۳۲۶) ظفیر
(۴) من سمی مہر ا عشر فما زاد فعلیہ المسمی ہدایۃ ج ۲ ص ۳۰۳) ظفیر