رجسٹری بعد نکاح کے کرادوں گا دو سال ہوگئے رجسٹری نہیں ہوئی اس صورت میں نکاح ہوایا نہیں اور نیز وہ شخص ٹھیٹر میں ملازم ہے اوریک چشم ہے ا ن امور سے نکاح میں تو کچھ فرق نہیں آیا ؟
(الجواب ) نکاح ہوگیا اور جو مکان شوہر نے مہر میں دینا مقرر کیا تھا وہ مہر ہوا اور زوجہ کی ملک ہوگیا رجسٹری اگر نہ کی گئی تب بھی وہ مکان زوجہ کی ملک ہے‘ شوہر کی رجسٹری نہ کرانے سے نکاح میں کچھ فرق نہیں آیا (۱) اور نہ اس وجہ سے کہ شوہر ٹھیٹر میں ملازم ہے اور یک چشم ہے نکاح میں کچھ فرق نہیں آسکتا۔ فقط
مہر مؤجل کے وصول کرنے کی مدت!
(سوال ۱۳۰۷) مہر مؤجل وصول کرنے کی کیا میعاد ہے ۔؟
( الجواب ) مہرمؤجل فرقت بالطلاق کے بعدیا موت کے بعد ادا کرنا واجب ہوتا ہے ویقع ذلک علیٰ وقت وقوع الفرقۃ بالموت او الطلاق وروی عن ابی یوسف ؒ ما یوید ہذا القول کذافی البدائع (عالمگیری کشوری ج ۲ ص ۳۱) ظفیر
(سوال۱۳۰۸) زوجہ بعد وصول کرنے مہرکے ملکیت شوہر سے حصہ وصول کرنے کے مستحق ہے یانہ؟
(الجواب) بعد حاصل کرنے مہر کے اگر زوج فوت ہوجاوے تو زوجہ کو حصہ پہنچے گا اور قبل الفوت نفقہ وکسوۃ کے سوا استحقاق نہیں ہے۔فقط
دیوانہ کی بیوی کیا کرے ؟
(سوال ۱۳۰۹) ہندہ کا شوہر مسلوب الحواس ہوگیا آیاہندہ نکاح ثانی کرسکتی ہے یا نہیں ؟ اور ہندہ اپنے شوہر سے طلاق لے سکتی ہے یا حلع کرسکتی ہے یا نہ اور مہر وصول کرسکتی ہے یا نہیں ؟ اور جب کہ شوہر مسلوب الحواس کی جائیداد اس قدر ہے کہ وہ زوجہ کے بار کفالت کی ذمہ ہوسکتی ہے تو اس صورت میں زوجہ کو دعویٰ مہر کا حق شرعاً حاصل ہے یا نہیں ؟
(الجواب ) مسلوب الحواس اور دیوانہ کی زوجہ دوسرا نکاح نہیں کرسکتی (۲) اور دیوانہ کی طلاق بھی واقع نہیں ہوتی (۳) اور نہ خلع ہوسکتا ہے مہر اگر مؤجل ہے تو شوہر دیوانہ کے مرنے کے بعد اس کی جائیداد سے اس کی زوجہ مہر لے سکتی ہے فی الحال دعویٰ نہیں کرسکتی کیونکہ مہر مؤجل کا مطالبہ طلاق یا موت کے بعد ہوسکتا ہے صورت مسئولہ میں طلاق تو ہو نہیں سکتی لہذا بعد موت شوہر دعویٰ مہر کا ہوسکتا ہے (۴) ہذا کلہ فی کتب الفقہ فقط
--------------------------
(۱) ویجب الاکثر منہا ان سمی الاکثر و یتاکد عند وطؤ او خلوۃ صحت ( درمختار ) وافادان المہر وجب بنفس العقد الخ ( رد المحتار ج ۲ ص ۴۵۴ باب المہر۔ط۔س۔ج۳ص۱۰۲ ) ان المسمی ان کان غیر النقود بان کا عرضا او حیوانا اما ان یکون معینا باشارۃ اواضافۃ فیجب بعینہ ( رد المحتار ج ۲ ص ۴۷۹۔ط۔س۔ج۳ص۱۲۹) مطلب تزوجہا علی عشرۃ دراہم او ثوب ) ظفیر ( ۲) ولا یتخیر احدہما ای الزوجین بعیب الاخرفاحشا لجنون و جذا م الخ ( الدرالمختار علی ہامش رد المحتار ج۲ص ۸۲۲ باب العنین وغیرہ ۔ط۔س۔ج۳ص۵۰۱) ظفیر
( ۳) لایقع طلاق المولیٰ علیٰ امراۃ عبد ( الی قولہ ) والمجنون (الدرالمختار ج ۲ ص ۲۱۷۔ط۔س۔ج۳ص۳۴۲) ظفیر( ۴) ولو کان المہر مؤجلا ( الی قولہ ) و یقع ذلک علی وقت وقوع الفرقۃ بالموت اوبالطلاق وروی عن ابی یوسف ما یوید ہذا القول کذافی البدائع ( عالمگیری کشوری ج ۲ ص ۳۳۱ ج۱ص۳۱۸) ظفیر