بیوی نے مہر معاف نہ کیا تو شوہر کے ذمہ واجب الادا ہے
(سوال ۱۳۱۰) ایک شخص نے اپنی زوجہ کا مہر ادا نہیں کیا تھا اور نہ زوجہ سے معاف کرایا تھا کہ زوجہ کا انتقال ہوگیاتو اس وقت میں کیا حکم ہے ؟
(الجواب ) مہر اس کا بذمہ شوہر واجب الاداء ہے لیکن اگر متوفیہ کے اولاد کچھ نہیں ہے تو نصف ترکہ متوفیہ کا وارث شوہر ہوتا ہے اور نصف باقی ورثہ کو ملتا ہے پس مہر میں سے بھی نصف شوہر کو پہنچا (۱) فقط

مہر معاف کرنے کے وقت گواہ ضروری نہیں
(سوال ۱۳۱۱) مہر معاف کرتے وقت گواہوں کا ہونا ضروری ہے یا نہیں ؟
(الجواب ) مہر کے معا ف ہونے کے لئے کسی گواہ وغیرہ کی ضرورت نہیں ہے (۲) لیکن اگر عورت کے ورثہ انکار کریں تو دو گواہوں سے معافی ثابت ہوگی ۔ (۳) فقط

کیا مہر میراث میں داخل ہے
(سوال ۱۳۱۲) کیا مہر بھی میراث میں داخل ہے ؟
(الجواب) میراث میں مہر بھی داخل ہے اگر اولاد نہیں تو خاوند کا حصہ نصف مہر وغیرہ ہے ۔ فقط

بیماری کے اخراجات مہر میں محسوب ہوں گے یا نہیں ؟
(سوال ۱۳۱۳) عورت منکوحہ کی بیماری و دیگر ضروریات میں جو روپیہ صرف ہو وہ مہر میں محسوب ہوسکتا ہے یا نہیں ؟
(الجواب ) یہ اخراجات بدون رضامندی عورت مہر میں محسوب نہیں ہوسکتے ۔ (۴) فقط

مہر مقرر کرنے کی وجہ!
(سوال ۱۳۱۴) نکاح میں مہر مقررکرنے سے کیا فائدہ ہے اور اس کا کیا سبب ہے ؟
(الجواب ) نص قطعی میں وارد ہے واحل لکم ما وراء ذلکم ان تبتغوا باموالکم محصنین غیر مسافحین (۵)الایۃ اس آیت قطعیہ سے مہرکا ضروری ہونا معلوم ہوا ( اس سے عورت کی عظمت و شرافت کو
-------------------------
(۱) واما الزوج فحالتان النصف عند عدم الولد وولد الابن وان سفل والربع مع الولد الخ ( سراجی ص ۱۳) ظفیر
( ۲) وصح حطہا لکلہ او بعضہ عنہ قبل اولا( الدرالمختار علی ہامش رد المحتار ج ۲ ص ۳۶۴ مطلب فی حط المہر۔ط۔س۔ج۳ص۱۱۳) ظفیر( ۳) وما سواء ذلک من الحقوق یقبل فیما شہادۃ رجلین او رجل وامراتین سواء کان الحق مالا او غیر مال مثل النکاح والطلاق الخ(ہدایہ ج ۳ ص ۱۳۵)
( ۴) اعلم ان المذہب الصحیح الذی علیہ الفتوی وجوب النفقۃ للمریضۃ قبل النقلہ او بعد ما امکنہ جماعہا اولاء معہا زوجہا اولا حیث لم تمتع نفسہا اذا طلب نقلتہا فلا فرق حینئذ بینہا و بین المراۃ الصحیحہ لو موجود التمکن من الاستمتاع کما فی الحائض والفساد الخ ( رد المحتار باب النفقۃ ج ۲ ص ۸۹۲۔ط۔س۔ج۳ص۵۷۸) ظفیر
(۵) سورۃ النساء رکوع ۴ ‘ ظفیر