اجاگر کرنا ہے ثم المہر واجب شرعا لشرف المحل‘ البحر الرائق ج ۲ ص ۱۵۲ ظفیر )

زیورات جو شوہر نے دیئے وہ مہر میں محسوب ہوں گے یا نہیں ؟
(سوال ۱۳۱۵) ایک شخص نے اپنی زوجہ کو طلاق دی پس مہر مقرر شدہ میں زیورات از وقت نکاح تا وقت طلاق شمار ہوں گے یا نہیں ؟
(الجواب ) اگر شوہر نے مہر میں حساب کرکے زیور دیا ہے تو وہ مہر میں محسوب ہوگا اور اگر ہدیتہً و ہبتہً دیا ہے تو مہر میں شمار نہ ہوگا اور اگر محض عاریۃ ً دیا تھا تو وہ زیور شوہر کی ملک ہے اگر وہ چاہے مہرمیں محسوب کرسکتا ہے۔ (۱) فقط
مہر کا دعویٰ
(سوال ۱۳۱۶) زید نے اپنی ہمشیرہ مرحومہ ہندہ کے مہر کا دعویٰ عمر شوہر ہندہ پر کیا‘ عمر نے جواب دیا کہ ہندہ اپنی حیات میں مہر معاف کرچکی ہے اور ثبوت معافی میں چندگواہ پیش کئے حاکم نے گواہوں میں جرح وغیرہ کا نقص نکال کر گواہی رد کردی اس صورت میں کیا حکم ہے ؟
(الجواب) معافی مہر کا ثبوت شرعی پورا ہو تو دعویٰ مہر کا عورت کے بھائی کی طرف سے مسموع نہ ہوگا مفتی کا کام اسی قدر ہے کہ یہ تحریر کرے کہ اگر دو گواہ عادل معافی مہر کے موجود ہیں تو مہر ساقط ہے (۲) اور مطالبہ عورت کے بھائی کا غیر مسموع ہے اور اگر دو گواہ عادل نہیں ہیں یا کوئی امر موجب رد شہادت ا ن میں موجود ہے تو عورت کے بھائی کا دعویٰ صحیح اور مہر اس کو دلوایا جائے گا باقی قبول یارد شہادت یہ کام حاکم و قاضی کا ہے۔ فقط

اطاعت نہ کرنے کی صورت میں مہر
(سوال ۱۳۱۷) زید کی بیوی اس کی اطاعت نہیں کرتی اگر زید اس کو طلاق دے دے تو مہر لازم ہوگا یا نہیں ؟
(الجواب ) اگر دخول یا خلوۃصحیحہ ہوچکی ہے تو طلاق کے بعد پورا مہر ادا کرنا لازم ہے ۔ (۳) فقط

مہر مثل سے کیا مراد ہے ؟
(سوال ۱۳۱۸) ایک عورت کا نکاح مہر مثل پر ہوا بعد چند روز کے میاں بیوی میں مہر کے متعلق اختلاف ہوا
-------------------------
(۱) لو بعث الی امراتہ شیئاً ولم یذکر جھتہ عند الدفع غیر جھۃ المہر فقالت ہو ای المبعوث ہدیۃ وقال ہو من المہر او من الکسوۃ او عاریۃ فالقول لہ بیمینہ( الدر المختار علی ہامش رد المحتار باب المہر ج ۲ ص ۴۹۹۔ط۔س۔ج۳ص۱۵۱ مطلت فی ما یرسل الی الزوجۃ) ظفیر
( ۲) وما سواء ذلک من الحقوق یقبل فیہا شہادۃ رجلین او رجل وامراتین سواء کان الحق مالا او غیر مال الخ (ہدایہ ج ۳ ص ۳۸) ظفیر
( ۳) یجب الاکثر منہا ان سمی الاکثر و یتاکد عند وطؤ اوخلوۃ صحت (الدرالمختار علی ہامش رد المحتار با بالمہر ج ۲ ص ۴۵۴۔ط۔س۔ج۳ص۱۰۲) ظفیر