بیوی کا یہ قول ہے کہ میرا مہر مثل میری ماں اور حقیقی بہن کے برابر یعنی جتنا جتنا ان کا تھا اتنا ہی میرا ہے بخلاف خاوند کے وہ کہتے ہیں کہ نہیں بلکہ تمہارا مہر تمہاری سوتیلی بہنوں کے برابر ہے اب عند الشرع کس کاقول معتبر ہے اور خاوند کو کون سا مہر ادا کرنا ہوگا اور وقت نکاح کے بجز مہر مثل کے کوئی تفصیل نہیں کی گئی تھی ۔ فقط
(الجواب ) درمختار میں ہے و مہر مثلہا الشرعی مہر مثلہا اللغری ای مہر امراۃ تماثلہا من قوم ابیہا لا امہا الخ سناً و جمالاً (۱)الخ اس عبارت کا حاصل یہ ہے کہ باپ کے اقربا میں جو عورت اس کے مثل ہو عمر اور صورت و دینداری وغیرہ میں اس کے مہر کودیکھناچاہئیے وہی مہر مثل ہے اور یہ بھی اس عبارت میں مذکور ہے کہ ماں وار اس کے قبیلہ کے مہر کا اعتبار نہیں اور شامی سے معلوم ہوتا ہے کہ حقییق بہن اور علاتی بہن میں کچھ فرق نہیں ہے ان میں جو اس کے مماثل ہو عمر و صورت وغیرہ میں جو اس کا مہر ہوگا وہی اس کا مہر ہوگا۔ فقط

مہرمؤجل قرار پایا اب لڑکی کا باپ معجل کا دعویٰ کرتا ہے کیا حکم ہے؟
(سوال ۱۳۱۹) ہندہ کا نکاح زید سے ہوا اور مہر موجل قر ار پایا لیکن یا تو قاضی کی غلطی سے یا ہندہ کے باپ کی سازش سے رجسٹر قاضی میں لفظ مؤجل تحریر نہیں ہوا ہندہ لا ولد ہے اور اس کا باپ بہت مقروض ہے اس نے ہندہ کو اپنے قبضہ میں کرکے ہندہ کے نصف دین کا دعویٰ عدالت میں کردیا اس صورت میں مہر مؤجل کا اعتبار ہے یا کیا جب کہ عرف یہاں کا یہ ہے کہ اگر دین مہر بلا صراحت ہوتا ہے تو تا قیام نکاح و تاحیات زوجین زوجہ کو کسی جزو کے ملنے کا رواج نہیں ہے‘ ہندہ کا باپ کہتا ہے کہ رواج کا عدم وجود اس وقت معلوم ہوسکتا ہے کہ عدالت میں کوئی مقدمہ گیا ہو اور ناکامی ہوئی ہو‘ اور بلا عدالت کی تجویز کے رواج کا پتہ نہیں چل سکتا۔
(الجواب ) اعتبار اسی کا ہے جو کچھ دربارہ مہر قرار پایا تھا پس جب کہ مہر موجل قرار پایا تھا تو مؤجل ہی لازم ہے اور مہر مؤجل کا مطالبہ بعد طلاق یا موت کے ہوسکتا ہے عرف یہی ہے کذافی عالمگیریہ۔ (۲) فقط

اگر مرنے والے شوہر کی جائیداد مہر سے کم ہو تو بقیہ ورثہ کے ذمہ ہوگی یا نہیں ؟
(سوال ۱۳۲۰) اگر متوفیہ کی جائیداد مہر سے کم ہو تو ورثہ کے ذمہ اس کی ادائیگی ضروری ہے یا نہیں ؟
(الجواب ) متوفی کی جائیداد سے مہر لیا جاسکتا ہے (۳) اگر متوفی کی جائیداد اس کو کافی نہ ہو تو وارثوں پر ادا کرنا لازم نہیں ہے ۔ فقط

-------------------------
(۱) الدرالمختار علی ہامش رد المحتار ج۲ ص ۴۸۷ ‘ باب المہر۔ط۔س۔ج۳ص۱۳۷۔ مطلب فی بیان مھر المثل ظفیر (۲) ولا خلاف لا حد ان تاجیل المہر الی غایۃ معلومۃ الخ وان کان لا الیٰ غایۃ معلومۃ فقد اختلف المشائخ فیہ قال بعضہم یصح وہو الصحیح وہذا کان الغایۃ معلومۃ فی نفسہا وہو الطلاق او الموت ( عالمگیری باب المہر ج ۱ ص ۲۹۸ باب السابع فصل حادی عشر ج ص۳۱۸) ظفیر ( ۳) تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃ مرتبۃ الاول یبدأ التکفیتہ و تجہیزہ من غیر تبذیر ولا تقصیر ثم تقضی دیونہ من جمیع ما بقی من مالہ الخ (سراجی ص ۴)