تو تین ماہ گزرنے کے بعد وہ عورت ا س کافر کے نکاح سے خارج ہوتی ہے پھر کچھ تعلق زوجیت کا درمیان اس کافر کے اور اس کی زوجہ کے نہیں رہتا پس زیدجب کہ مدت مذکورہ میں اسلام نہ لایا تو اس کی زوجہ ہندہ اس کے نکاح سے خارج ہوگئی اور بکر سے اگر نکاح مدت مذکورہ کے بعد ہوا تو صحیح ہوگیا‘ اور اگر عورت کے مسلمان ہوتے ہی فوراً نکاح کرلیا تو وہ صحیح نہیں ہوا تین حیض آنے کے بعد یا تین ماہ گزرنے کے بعد پھرنکاح ہونا چاہئیے۔ فقط
کافر کی بیوی مسلمان ہوجائے تو عدت کے بعد اس سے نکاح کرنا چاہئیے
(سوال ۱۴۵۷) ہندہ کافرہ شوہر دار ہے زید سے اس کی آشنائی و محبت ہوگئی ہے زید نے اس کو مسلمان کراکر اسی وقت عقد کرلیا‘ یہ نکاح جائز ہے یا نہیں ؟
(الجواب ) اس بارے میں حکم یہ لکھا ہے کہ اسلام کے بعد تین حیض عورت کو پورے کراکر اس سے نکاح صحیح ہوسکتا ہے اور تفصیل اس کی درمختار شامی میں ہے الحاصل بفور اسلام جو اس عورت سے نکاح کیا گیا وہ صحیح نہیں ہوا۔ (۱) فقط
کافرہ کو اس کاشوہر بطور خود طلاق دے چکا ہے اگر اب وہ
عورت مسلمان ہوکر فوراً نکاح کرلے توجائز ہے

(سوال ۱۴۵۸) ایک عورت کافرہ کہ جس کے خاوند نے عرصہ پانچ چھ سال کا ہوا اپنے طریق پر طلا ق دے دی ہے‘وہ اب مسلمان ہونا چاہتی ہے اور ایک مسلمان کے ساتھ نکاح پر راضی ہے کیا وہ مسلمان ہوتے ہی نکاح کرسکتی ہے یا کیا ؟
(الجواب ) مسلمان ہوتے ہی اس سے نکاح کرلینا صحیح ہے ۔ فقط

نو مسلمہ کا نکاح عدت کے بعد کیا جائے ؟
(سوال ۱۴۵۹) ایک جوان عورت ہمارے یہاں آ کر مسلمان ہوئی اور خاوند اس کا مسلمان نہیں ہوا جس کو عرصہ بیس یوم کا ہوا‘ اس عورت کو شوہر کی خواہش بے حد ہے‘ اسی کی طر ف سے ہر وقت یہ تقاضا ہے کہ میرا نکاح بہت جلدکردیا مجھ کو برداشت نہیں ہے اگر شرعاً جائز ہو تو اس کانکاح کردیا جاوے ؟
(الجواب ) درمختار میں یہ لکھا ہے کہ ایسی عور ت تین حیض گزرنے کے بعد نکاح کرسکتی ہے‘ اس سے پہلے
---------------------------
(۱) ولو اسلم احدہما ای احد المجوسیین او امرأۃ الکتابی ثمہ ای فی دار الحرب الخ لم تبن حتی تحیض ثلاثا او تمضی ثلاثتہ اشہر قبل اسلام الاخر ( الدرالمختار علی ہامش رد المحتار باب نکاح الکافر ج ۲ ص ۵۳۶ ‘ ۵۳۷۔ط۔س۔ج۳ص۱۹۱ ) ظفیر
( ۲) اس لئے کہ پانچ سال سے مطلقہ ہے اس پر عدت نہیں ہے ‘ظفیر