(الجواب ) عورت کو نہ چاہئیے کہ بدوں اجازت شوہر کے کسی کے بچہ کو دودھ پلاوے‘ لیکن اگر پلاوے گی حرمت رضاعت ثابت ہوجاوے گی۔ (۱)فقط

شک کی صورت میں حرمت ثابت ہوگی یا نہیں ؟
(سوال ۱۵۵۹) اگر رضاعت مشکوک ہوتو کیا حکم ہے ؟
(الجواب ) اگر رضاعت میں شک ہو تو حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی ۔ کذافی الدرالمختار (۲) فقط

امام شافعی ؒکے یہاں مدت رضاعت!
(سوال ۱۵۶۰) مدت رضاعت مذہب شافعیہ میں کتنی ہے ؟
(الجواب ) رضاعت کی مدت دو برس یا ڈھائی برس علی اختلاف القولین ہے ( امام شافعی ؒکے نزدیک مدت رضاعت صرف دو سال ہے ‘ (۳) ظفیر)
شہادت نہ ہونے کی صورت میں !
(سوال ۱۵۶۱) جس کے لئے شہادت نہیں وہ مشکوک ہوتا ہے یا نہیں ؟
(الجواب ) اگرشہادت رضاعت کی نہ ہو‘ حرمت رضاعت ثابت نہ ہوگی۔ (۴) فقط
نانی کا جس نے دودھ پیا اس کی شادی ماموں کی لڑکی سے جائز ہے یا نہیں ؟
(سوال ۱۵۶۲) ایک شخص نے اپنی نانی کا دودھ بشمول اپنی ہم عمر خالہ کے پیا ہے‘ آیا یہ شخص اپنی ماموں کی بنت سے نکاح کرسکتا ہے یا نہیں ‘ ماموں عمر میں زیادہ ہے یعنی رشتہ رضاع سے پہلے کاپیدا ہے اور خالہ جو اس وقت رضاعی ہمشیرہ ہے یہ اپنے بھائی سے تیسرے درجہ کی ہے ؟
(الجواب) شریعت کا یہ قاعدہ ہے کہ جس عورت کا کوئی بچہ شیر خوار دودھ پیوے اس عورت کی تمام اولاد اس بچہ کی بہن بھائی رضاعی ہوجاتے ہیں تقدم و تاخر کااعتبار نہیں ‘ اگلی پچھلی اولاد مرضعہ کی سب اس بچہ رضیع کے بھائی بہن رضاعی ہیں اور اس اعتبار سے والدہ نسبی بھی بہن رضاعی ہوگئی اور ماموں و خالہ سب بھائی بہن رضاعی ہوئے پس ماموں کی دختر سے اس رضیع کا نکاح درست نہیں ہے ولاحل بین رضیعی امرأۃ لکونہما اخوین وان اختلف الزمن والاب ولا حل بین الرضیعتہ وولد مرضعتہا(۵) الخ (درمختار ) جملہ وان اختلف الزمن سے یہ صاف طور سے ثابت ہے کہ مرضعہ کی پہلی پچھلی اولاد سب رضیع کے بھائی بہن رضاعی ہیں ۔ فقط
----------------------------
(۱) یکرہ للمراۃ ان ترضع صبیا بلا اذن زوجہا الا اذا خافت ہلاکہ( رد المحتار باب الرضاع ج ۲ ص ۵۵۷۔ط۔س۔ج۳ص۲۱۳) ظفیر
( ۲) فلو التقم الحلمتہ ولم ید رادخل اللبن فی حلقہ ام لا لم یحرم( درمختار ) لو ادخلت الحلمتہ فی فم الصبی و شکت فی الارتضاع لا تثبت الحرمتہ بالشک( رد المحتار باب الرضاع ج ۲ ص ۵۵۶ ‘ ۵۵۷۔ط۔س۔ج۳ص۲۱۲) ظفیر
( ۳) ثم مدۃ الرضاع ثلثون شہرا عند ابی حنیفتہ وقالا سنتان وہو قول الشافعی ( ہدایہ کتاب الرضاع ج ۲ ص ۳۲۹ )
( ۴) وانما یثبت بشہادۃ رجلین او رجل وامراتین الخ ( ہدایہ کتاب الرضاع ج ۲ ص ۳۳۳) ظفیر
(۵) الدرالمختار علی ہامش رد المحتار باب الرضاع ج ۲ ص ۵۶۱۔ط۔س۔ج۳ص۲۱۷ ‘ ظفیر