داد اکے رہتے ہوئے چچا ولی نہیں ہوسکتا
(سوال ۹۲۴) زیدفوت ہوا اس نے زوجہ اور باپ اور چچازاد بھائی اور نابالغ اولاد چھوڑی زید کی نابالغہ لڑکی کا نکاح اس کے چچا نے کردیا یہ نکاح جائز ہوایا نہیں اور ولی نابالغان کا کون ہے ؟
(الجواب ) اس صورت میں زید کی اولاد نابالغہ کا ولی زید کاباپ ہے پس اگروہ لڑکی جس کا نکاح کیا ہے نابالغہ ہے تو اس کے دادا کی اجازت سے اس کا نکاح ہوسکتا ہے (۱)چچا نے اگر دادا کی اجازت سے نکاح کیاہے تو نکاح صحیح ہوگیا۔ (۲)
باپ کا کیا ہوا نکاح درست ہے بغیر طلاق دوسرا نکاح جائز نہیں
(سوال ۹۲۵) مسماۃ کریمن کا نکاح سات برس کی عمر میں اس کے باپ نے ایک شخص سے کردیا تھا لیکن بعد دو سال کے اس کی ماں اپنی لڑکی کریمن کو لے کر بھاگ گئی اور بعد دو تین سال کے بعد جب اس کی عمر گیارہ برس کی ہوئی تو اس کی ماں نے اس کا نکاح دوسری جگہ کردیا باپ مرچکا تھا پھر وہاں سے بھی نکل گئی اب زید اس سے عقد کرنا چاہتا ہے اور ہر دو خاوند میں سے کسی نے طلاق نہیں دی تو زید عقد کرسکتا ہے یا کیا حکم ہے ؟
(الجواب ) پہلا نکاح جو باپ نے کیا تھا وہ صحیح ہوگیا تھا وہ فسخ نہیں ہوا زید اگر اس عورت سے نکاح کرنا چاہے تو شوہر اول سے طلاق دلوائے اس وقت زید نکاح کرسکتا ہے۔ (۳) فقط
اجنبی اگر بالغہ لڑکی سے اجازت چاہے تو اس کا خاموش رہنا اجازت کے حکم میں نہیں ہے
(سوال ۹۲۶) ایک ناکتخدا بالغہ لڑکی سے ایک اجنبی شخص نے اجازت نکاح طلب کی وہ اجنبی نہ لڑکی کا محرم ہے اور نہ لڑکی اس کے سامنے آتی ہے اور لڑکی کے ولی یعنی لڑکی کے باپ کے چچا زاد بھائی موجود ہیں لیکن ان کو کچھ اطلاع نہیں کی گئی اور یہ محض اس خیال سے کہ اگر ان کو اطلاع ہوئی تو معاملہ درہم برہم ہوجائے گا غرض خفیہ طور پر اس لڑکی سے اجازت نکاح طلب کی لڑکی نے کچھ جواب نہیں دیا بالکل ساکت رہی باہر آکر اس کا نکاح پڑھا دیا اور اس کے سکوت کو اجازت بتایا آیاصورت مذکور میں یہ سکوت اجازت ہوگا یا نہیں اور یہ نکاح جو بلا اجازت و بغیر اطلاع ولی محض اجنبی کے کہنے سے کردیا گیا منعقد ہوگا یا نہیں ؟
(الجواب ) اگر ناکتخدا بالغہ سے اجازت لینے والا ولی قریب کے علاوہ کوئی اور اجنبی شخص ہے تو تاوقتیکہ وہ زبانی اجازت نہ دے اور بہ تکلم رضامندی کا اظہار نہ کرے تو ازروئے شرع رضامندی نہیں ہوسکتی اجنبی کے دریافت
کرنے کی صورت میں سکوت رضامندی کے قائم مقام نہیں ہوسکتا سکوت کا رضامندی پر دلالت کرنا صرف
--------------------------
(۱) الولی فی النکاح لا المال العصبۃ بنفسہ الخ علی ترتیب الارث والحجب فیقدم ابن المجنونۃ علی ابیہا (درمختار۔ط۔س۔ج۳ص ۷۶) ثم یقد م الاب ثم ابوہ ثم الاخ الشقیق الخ( ردالمحتار باب الولی ج ۲ ص ۴۲۷ ج ۲ ص ۴۲۸۔ط۔س۔ج۳ص۷۶)( ۲) فلو زوج الابعد حال قیام الا قرب توقف علی اجازتہ (الدرالمختار علی ہامش رد المحتار باب الولی ج ۲ ص ۴۳۲۔ط۔س۔ج۳ص۸۱) ظفیر
( ۳) ویجوز نکاح الصغیر والصغیرۃ اذا زوجہما الولی بکرا کانت الصغیرۃ او ثیبا الخ فان زوجہما الاب والجد الخ فلا خیار لہما بعد البلوغ ( ہدایہ باب فی الاولیاء ج ۲ ص ۲۹۵ و ج۲ ص ۲۹۶۔ط۔س۔ج۳ص۳۱۶- ۳۱۷) ظفیر