ایسا نہ کیا تو آزاد سمجھی جائوگی لکھا ، مگر نیت طلاق کی نہیں تھی تو کیا حکم ہے۔
خرچہ کے مطالبہ پر چھوڑی کہنے سے طلاق ہوتی ہے یا نہیں ۔
تو کہیں جا میں اگر طلاق کی نیت ہو تو طلاق ہوگی وار اغلام سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔
اپنی لڑکی کو جس جگہ چاہو دے دو، مجھ کو ضرورت نہیں ۔ اگر طلاق کی نیت سے
کہے گا تو طلاق ہوجائے گی۔
ہمیں اس کے رکھنے کی ضرورت نہیں ، واسطہ نہیں جیسے جملے میں نیت سے طلاق ہوتی ہے۔
جہاں چاہو شادی کرلو کہنے سے بشرط نیت طلاق ہوجائے گی۔
اس کو لے جائو اس سے نکاح کرلینا۔اگرطلاق کی نیت سے کہا تو طلاق واقع ہوگئی۔
میری طرف سے اجازت ہے رکھو یا عقد کرادو لکھنے سے طلاق ہوگی یا نہیں ۔
تم آزاد ہو دو مرتبہ کہا کونسی طلاق ہوئی۔
یہ میرے مصرف کی نہیں اس جملہ میں طلاق کی نیت کا اعتبار ہے۔
میں نے اپنی زوجیت سے علیحدہ کردیا کہنے سے طلاق۔
صورت مذکورہ میں طلاق واقع ہوئی یا نہیں ۔
میں نے تمہاری صفائی کردی کہہ کر علیحدہ کردے تو طلاق ہوگی یا نہیں ۔