باب اول
بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم
الحمد ﷲ رب العلمین والصلوۃ والسلام علیہ نبیہ المرسلین وعلی آلہ وصحبہ اجمعین
کتاب الطلاق
وقوع طلاق کی شرطیں ، طلاق کب اور کیوں کر دی جائے ، اور کس کی
طلاق واقع ہوتی ہے کس کی نہیں
عورت کب طلاق کا مطالبہ کر سکتی ہے

(سوال ۱)عورت کس صورت میں طلاق طلب کر سکتی ہے ۔
(الجواب)اگر باہم زوجین میں نا اتفاقی ہو ، اور کوئی صورت موافقت کی نہ ہو، اور حقوق طرفین ادا نہ ہوسکتے ہوں تو عورت طلاق طلب کر سکتی ہے اور خلع کرا سکتی ہے ، (۱) لیکن اس میں اختیار عورت کا کچھ نہیں ہے ، مرد کو اختیار ہے کہ وہ طلاق دے یا نہ دے اور خلع کرے یا نہ کرے ۔ (۲)
جب میاں بیوی میں میل نہ ہو تو کیا حکم ہے
(سو ال ۲ )زوجین میں اتفاق نہیں ہے ، کیا ہونا چاہئے۔
(الجواب)شوہر کو چاہئے اتفاق کرے ، ورنہ طلاق دے دیوے۔ (۳) فقط
صرف دل میں بار بار خیال آنے سے کہ تین طلاق دے دی طلاق نہیں ہوئی
(سو ال ۳)محمد ابراہیم کو ایک دل بے روزگاری کی وجہ سے یہ خیال آیا کہ میری حالت تو ایسی تنگدستی کی ہے اور میں نے اپنے ساتھ اپنی زوجہ کی حالت بھی تباہ کر دی ، میں نے ناحق اپنی شاد ی کی، ا کے ستھ ہی دل میں خیال آیا کہ تین طلاق دے دی لیکن زبان سے کوئی کلمہ نہیں نکالا نہ اس کی نیت طلاق کی تھی ، جب یہ خیال دل میں آیا تو فوراً زبان سے استغفار اور لاحول پڑھا، لیکن شیطانی خیال ہے کہ بار بار وہی خیال آتا ہے کہ میں نے طلاق دے دی مگر زبان سے کوئی کلمہ نہیں نکالتا، کیا اس خیال سے نکاح میں کوئی خلل واقع ہوا یا نہیں ۔
(الجواب)حدیث صحیح میں ہے انہ اﷲ تجاوز عن امتی ما وسوست بہ صدورھا ما لم تعمل بھا او تتکلم بھا رواہ الشیخان۔(۴) پس معلوم ہوا کہ اس صورت میں محمد ابراہیم کی زوجہ پر طلاق واقع نہیں ہوئی۔ (۵)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)ولاباس بہ عند الحاجۃ للشقاق بعد الوفاق بما یصلح للمھر (در مختار) ای بوجود الشقاق وھو الا ختلاف والتخاصم وفی القھستانی عن شرح الطحاوی السنۃ اذا وقع بین الزوجین اختلاف ان یجتمع اھلھما لیصلحوا بینھما فان لم یصطلحا جاز الطلاق والخلع ا ھ و ھذا ھو الحکم المذکور فی الآیۃ(وان خفتم شقاق بینھما فابعثو احکما من اھلہ و حکما من اھلھا انیرید ا اصلا حایوفق اﷲ بینھما ۔ النساء) رد المختار باب الخلع ج ۲ ص ۷۶۷۔ط۔س۔ج۳ص۴۴۱) ظفیر۔
(۲)فان خفتم الا یقیما حدود اﷲ فلا جناح علیھما فیما افتدت بہ تلک حدود اﷲ فلا تعتدو ھا (البقرہ۔ ۲۹) ظفیر۔
(۳)الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان (البقرہ۔ ۲۹ ) واما سبعہ فالحاجۃ الی الخلاص عند تبائن الا خلا ق و عروض البغضاء المو جبۃ عدم اقامۃ حدود اﷲ الخ ویکون واجبااذا فات الا مساک بالمعروف (البحرالرائق کتاب الطلاق ج ۳ ص ۲۵۳) ظفیر۔(۴)مشکوٰۃ باب الوسوسہ ص ۱۸ الفصل الاول۔ ظفیر۔(۵)فقد افاد ان رکنہ (ای الطلاق) اللفظ الدال علی ازالۃ حل المحلیۃ (البحرالراائق) کتاب الطلاق ج ۳ ص ۲۵۲) وشرعاً رفع قید النکاح الخ بہ لفظ مخصوص ھو ما اشتمل علی الطلاق الخ ورکنہ لفظ مخصوص (در مختار) واراد اللفظ ولو حکما لید خل الکتابۃ المستینۃ واشارۃ الاخرس الخ (رد المحتار کتاب الطلاق ج ۲ ص ۵۷۰ و ج۲ ص ۵۷۴۔ط۔س۔ج۳ص۲۷- ۲۲۶) ظفیر۔