جب بیوی کی خبر گیر نہ کرسکے تو طلاق دینا واجب ہے
(سو ال ۴ )ایک شخص صاحب ملکیت نے اپنی عورت کو گھر سے الگ کر دیا ہے ، خرچ بھی کچھ نہیں دیتا، اب وہ نہایت مصیبت سے زندگی کے دن کاٹ رہی ہے ، شخص مذکور نے اپنی ملکیت بھی دوسرے کے نام کر دی ہے، اس لئے بذریعہ عدالت انگریزی بھی کچھ چارہ جوئی نہیں ہوسکتی، اب وہ عورت اس بے کسی کی حالت میں طلاق لینے کی مستحق ہوسکتی ہے یا بدستور اس فاقہ کشی اور بے کسی میں مبتلا رہ کر جان بحق تسلیم ہوجائے، اگر کوئی صورت طلاق کی نکل سکے تو تحریر فرماویں ۔
(الجواب)اس صوت میں بے شک شوہر کے ذمہ لازم ہے کہ جب کہ وہ امساک بالمعروف نہیں کرتا اور اپنی زوجہ کو نفقہ نہیں دیتا اور اس کے حقوق ادا نہیں کرتا تو اس کو طلاق دے دے ، اور اس مصیبت سے اس کو خلاصی دیوے، قال اﷲ تعالیٰ فامساک بمعروف او تسریح باحسان۔ (۱) در مختار میں ہے ویجب لو فات الا مساک بالمعروف الخ ۔ (۲)پس معلوم ہوا کہ ایسی حالت میں شوہر مجبور کیا جاوے گا طلاق دینے پر (۳) لیکن عورت خود بلا طلاق شوہر کے اس کے نکاح سے علیٰحدہ نہیں ہوسکتی اور تفریق نہیں کرا سکتی ، قال فی الدر المختار ولا یفرق بینھما بعجزہ عنھا الخ ولا بعدم ایفائہ الخ حقھا الخ۔ (۴)
آواز کا پردہ نہ کرے تو طلاق دی جائے یا نہیں
(سو ال ۵ )ایک شخص کی زوجہ نماز تو پڑھتی ہے لیکن محبت سے نہیں پڑھتی، اور نامحرم سے آواز کا پردہ نہیں کرتی ، ایسی بیوی کو شوہر طلاق دے یا کیا کرے۔
(الجواب)ایسی عورت کو طلاق دینے کا حکم نہیں ہے ،(۵) شوہر کے ذمہ اتنا ہی ہے کہ اس کو نصیحت کرتا رہے، اور وہ نماز پڑھتی ہے اسی کو غنیمت سمجھے، نماز پڑھتے پڑھتے محبت بھی ہوہی جائے گی ، زیادہ تشدد نہ کرے ، اور آواز کا ایسا گہرا پردہ نہیں ہے ، بلکہ بضرورت بولنا غیر محرم سے درست ہے ، کذا فی الشامی ۔ (۶) فقط۔
بیوی متبع شریعت نہ ہوتو طلاق دینا کیسا ہے
(سو ال ۶ )اگر کوئی عورت باوجود ہر قسم کی فہمائش کے اپنے اخلاق اعمال درست نہ کرے ، اور کفر وشرک کی رسوم اور باتوں کو نہ چھوڑے، اور اس کا شوہر متبع شریعت ہے ، اور اس کو اپنی عورت سے محض اسی بناء پر رنج رہتا ہے تو کیا وہ طلاق دے سکتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)البقرہ ۔ ۲۹۔ ظفیر۔(۲)الدر المختار علی ہامش رد المختار کتاب الطلاق ج ۲ ص ۵۷۲۔ط۔س۔ج۳ص۲۲۹ ۔ ظفیر۔(۳)والذا قالوااذا فاتہ الا مساک بالمعروف ناب القاضی منا بہ فوجب التسریح باحسان (البحرالرائق کتاب الطلاق ج ۳ ص ۲۵۵)۔ ظفیر۔(۴)الدر المختار علی ہامش رد المختار باب النفقۃ ج ۲ ص ۹۰۳ مطلب فسخ النکاح بالعجر عن النفقۃ ۔ط۔س۔ج۳ص۵۹۰۔ظفیر۔(۵)الا صح خطرہ الا لحا جۃ الخ بل یستحب لو موذیۃ او تارکۃ صلاۃ ومفادہ لا اثم بمعاشرۃ من لا تصلی (الدر المختار علی ہامش رد المختار کتاب الطلاق ج ۲ ص ۵۷۱۔ط۔س۔ج۳ص۲۲۷) ظفیر۔
(۶)خلا الو جہ والکفین الخ وصو تھا علی الراجع (در مختار) قولہ صوتھا معطوف علی المستثنی یعنی انہ لیس بعورۃ الخ فان نجیز الکلام مع النساء للاجانب وفی ورثھن عند الحاجۃ إلی ذٰلک ولانجیز لھن رفع اصواتھن وتملیطھا ولا تلیینھا الخ (رد المختار باب شروط الصلوٰۃ مطلب فی سترا لعورۃ ج ۱ ص ۳۷۶۔ط۔س۔ج۱ص۴۰۵) ظفیر۔