(الجواب)طلاق دینا ایسی صورت میں واجب نہیں ہے ، لیکن اگر طلاق دیوے درست ہے اور بہتر یہ ہے کہ اس کو سمجھا تارہے اور طلاق نہ دیوے ۔ (۱)
جان کے خوف سے طلاق دی گئی اس کا کیا حکم ہے
(سو ال ۷ )ایک سخص نے اپنے بھائی کو مارا کہ تو اپنی زوجہ کو طلاق دے دے ،اس نے جان کے خوف سے اپنی زوجہ کو طلاق دے دی ، اس صورت میں طلاق واقع ہوئی یا نہیں ۔
(الجواب)اس صورت میں طلاق واقع ہوگئی ، کیونکہ عند الحنفیہ اکراہ سے بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے ، کذا فی الدر المختار۔(۲)فقط
طلاق شرعی اور بدعی میں فرق ہے یا نہیں
(سو ال ۸ )طلاق شرعی اور بدعی ، غیر شرعی کی تعریف حسب تشریح فقہاء کیا ہے ، اور دونوں کا حکم ایک ہے یا فرق ہے ، اس پر ایک بنگالی مولوی نے یہ جواب لکھا تھا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ اگر تین طلاق بدعی ہوں تو حلالہ کی ضرورت نہیں ، تجدید نکاح کافی ہے ۔ اس پر حضرت مفتی صاحب تحریر فرماتے ہیں ۔
(الجواب)اقول قال فی الدر المختار والبدعی ثلاث متفرقۃ او ثنتان بمرۃ او مرتین فی طھرواحد لا رجعۃ فیہ الخ قال شارحہ العلامۃ الشامی قولہ ثلث متفرقۃ وکذا بکلمۃ واحدۃ بالا ولیٰ وعن الا مامیۃ لا یقع بلفظ الثلث ولا فی حالۃ الحیض لانہ بد عۃ محرمۃ وعن ابن عباس ؓ یقع بہ واحدۃ الخ وذھب جمھور الصحابۃ والتابعین ومن بعدھم من ائمۃ المسلمین الیٰ انہ یقع ثلث (الی ان قال) وقد ثبت النقل عن اکثرھم صریحاً بایقاع الثلث ولم یظھر لھم مخالف فماذا بعد الحق الا الضلال (۳) الیٰ آخر ما نقل عن الکمال ابن الھمام صاحب فتح القدیر فعلم ان الطلاق البدعی ایضاً واقع ومن طلقت ثلثا بالطلاق البدعی فقد حرمت علیٰ الزوج بالحرمۃ الغلیظۃ حتیٰ لا تحل لہ حتی تنکح زوجاً غیرہ کما قال اﷲ تعالیٰ فان طلقھا فلا تحل لہ حتیٰ تنکح زوجاً غیرہ (۴) فھذہ الآیۃ باطلا قھا تدل علیٰ ان المطلقۃ الثلاثۃ بای وجہ کان لا تحل للزوج الاول حتیٰ تنکح زوجاً غیرہ ھذا فقط
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)وقولھم الا صل فیہ ای فی الطلاق الحظر معناہ ان الشارع ترک ھذا الاصل فاباحہ بل یستحب لو موذبۃ او تارکۃ صلاۃ ومفادہ ان لا اثم بمعا شرۃ من لا تصلی (الدر المختار علی ہامش رد المختار کتاب الطلاق ج ۲ ص ۵۷۱ و ج ۲ ص ۵۷۲۔ط۔س۔ج۳ص۲۲۹)لا یجب علی الزوج تطلیق الفاجرۃ ولا علیھا تسریح الفاجر الا اذا اخافا ان لا یقیما حدود اﷲ فلا باس ان یتفرقا (ایضا ً فصل فی المحرمات ج ۲ ص ۴۰۲۔ط۔س۔ج۳ص۵۰) ظفیر۔
(۲)ویقع طلاق کل زوج عاقل بالغ ولو عبدااومکرھافان طلاقہ صحیح لا اقرارہ باالطلاق (در مختار) وفی البحر ان المراد الا کراہ علی التلفط بالطلاق فلو اکرہ علیٰ ان یکتب طلاق امراء تہ فکتب لا تطلق (رد المختار کتاب الطلاق ج ۲ ص ۵۷۹۔ط۔س۔ج۳ص۲۳۵)ظفیر۔
(۳)رد المختار کتاب الطلاق ج ۲ ص ۵۷۶ و ج ۲ ص ۵۷۷۔ط۔س۔ج۳ص۳۳-۲۳۲۔ ظفیر۔
(۴)سورۃ البقرہ۔ ۲۹۔ ظفیر۔