الزوجین بعیب فی الآخر ولو فاحشاً کجنون و جذام وبرص الخ۔ (۱)

پاگل کی طرف سے ولی یا قاضی طلاق دے سکتا ہے یا نہیں
(سوال ۹۸۵) ولی جائز یا قاضی محتسب ولی مہجور مثل مجنون و فاتر العقل زوجہ مہجور شرعی کو طلاق دے سکتا ہے یا نہیں ، خصوصاً جب کہ خلوت صحیحہ بھی نہ ہوئی ہو۔
(الجواب ) مجنون کی طلاق واقع نہیں ہوتی اور اس کا ولی یا قاضی بھی اس کی طرف سے طلاق نہیں دے سکتا لحدیث ابن ماجہ الطلاق لمن اخذ الساق در مختار۔ (۲)

مجنون کی بیوی علیٰحدگی اختیار کر سکتی ہے یا نہیں
(سوال ۹۸۶) مجنون کی زوجہ کو اس سے علیٰحدہ کر سکتے ہیں اور ان میں باہم تفریق ہوسکتی ہے یا نہیں ، امام ابو حنیفہ رحمہ اﷲ کے مذہب کے موافق۔
(الجواب ) مذہب امام ابو حنیفہ رحمہ اﷲ کے موافق جو کہ مفتی بہ ہے مجنون کی زوجہ کو مجنون سے علیٰحدہ نہیں کراسکتے فی الدر المختار ولا یتخیر احد الزوجین بعیب فی الآخر ولو فاحشا کجنون وجذام وبرص (۳) او رشامی میں امام محمد ؒ اور ائمہ ثلاثہ کا خلاف نقل کر کے لکھا ہے وقد تکفل فی الفتح بردما استدل بہ الا ئمہ الثلاثۃ ومحمد بما لا مزید علیہ۔ (۴)

مجنون کی بیوی جس کو زنا کا خطرہ ہے اور نان نفقہ کا سامان بھی نہیں
دوسری شادی کر سکتی ہے یا نہیں

(سوال ۹۸۷) ایک مرد مجنون ہوگیا، اس کی عورت جو ان زنا کا خوف کرتی ہے اور اس کے گذارہ کی کوئی صورت نہیں ہے ، کیا وہ نکاح فسخ ہوگیا، اور کیا جنون کی کوئی مدت متعین ہے یا نہیں ،اور کیا دوسرے مذہب پر عمل کر کے نکاح فسخ کر سکتی ہے یا نہیں اگر کر سکتی ہے تو کس کے مذہب پر اور اس کی کیا دلیل ہے ۔
(الجواب ) اس صورت میں حنفیہ کے نزدیک مجنون کی عورت کا نکاح فسخ نہیں ہوا ، اور دوسرا نکاح اس کی درست نہیں ہے ، امام محمد رحمہ اﷲ اور ائمہ ثلاثہ کا اس میں خلاف ہے ، لیکن فقہاء نے اس بارے میں حنفی کو اجازت نہیں دی دوسرے ائمہ اور امام محمد رحمہ اﷲ کے مذہب پر عمل کرنے کی کذافی الشامی۔ (۵)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)الدر المختار علی ہامش رد المحتار باب العنین وغیرہ ج ۲ ص ۸۲۲۔ط۔س۔ج۳ص۵۰۱ ۔۱۲ ظفیر۔
(۲)الدر المختار علی ہامش رد المحتار کتاب الطلاق ج ۲ ص ۵۸۵۔ط۔س۔ج۳ص۲۴۲۔ موجودہ دور میں انتہائی مجبوری کی وجہ سے امام مالک ؒ او امام محمد ؒ کے مذہب پر فسخ کے جائز ہونے کا حکم دیا گیا ہے ، تفصیل کے لئے دیکھئے الحیلۃ الناجزہ للتھانویؒ ۱۲ ظفیر۔
(۳)الدر المختار علی ہامش رد المحتار باب العنین وغیرہ ص ۸۲۲ ۔ط۔س۔ج۳ص۵۰۱۔۱۲ ظفیر۔
(۴)رد المحتار باب العنین وغیرہ ج ۲ ص ۸۲۲ ۔ط۔س۔ج۳ص۵۰۱۔۱۲ ظفیر۔
(۵)حضرت تھانوی رحمۃ اﷲ نے اپنے زمانہ میں تمام علماء ہند کے اتفاق سے دوسرے ائمہ اور امام محمد ؒ کے قول پر فسخ نکاح کا فتویٰ دیا ہے ، تفصیل کے لئے دیکھئے ’’ الحیلۃ الناجزہ ‘‘ (ظفیر) وخالف محمد فی الثلاثۃ الاول لو بالزوج کما یفھم من البحر وغیرہ (رد المحتار باب العنین ج ۲ ص ۸۲۲۔ط۔س۔ج۳ص۵۰۱) ظفیر۔