بھی عدت چھ ماہ دس یوم ہیں ۔ (۱) (۴) چوتھی صورت میں اگر وہ عورت مدخولہ تھی یا خلوت ہوچکی تھی تو عدت اس کی تین حیض ہیں اگر حیض آتا ہو، ورنہ تین ماہ ہیں ۔(۲)
نامرد کی مطلقہ پر عدت ہے
(سوال ۱۰۸۹) زید نامرد ہے وہ چاہتا ہے کہ اپنی زوجہ ہندہ کو طلاق دے دے اور ہندہ بھی طلاق لینا چاہتی ہے ، بعد طلاق ہندہ کو عدت کی ضرورت عقد ثانی کے لئے ہے یا نہیں ۔
(الجواب ) اگر خلوت ہوچکی ہے اگرچہ صحبت نہ ہوئی ہوتو ہندہ پر بعد طلاق کے عدت لازم ہے اور عدت طلاق کی اس عورت کے لئے جس کو حیض آتا ہو تین حیض ہیں ، پس ہندہ طلاق کے بعد عدت گذار کر دوسر انکاح کر سکتی ہے کما فی الدرالمختار باب المھر والخلوۃ الخ کالوطی الخ ولوکان الزوج مجبوباً او عنیناً او خصیاً الخ۔(۳)
عدت میں عورت کے لئے زیب و زینت درست نہیں
(سوال ۱۰۹۰) ایک بیوہ عدت کی حالت میں زینت کرنے بلکہ سفاح تک سے باز نہیں آئی ، اور بر ملا کہیں کی کہیں چلی جاتی ہے ، کیا ایسی عورت کا نکاح عدت سے پہلے ہوسکتا ہے ۔
(الجواب ) عدت کے اندر نکاح کرنا باطل ہے اور بیوہ کو ایام عدت میں جو کہ چار مہینہ اور دس روز ہے ، (۴) زیب و زینت کرنا اور رنگے ہوئے کپڑے پہننا مثل سرخ وزرد کی اور زیور اور ریشمی کپڑا وخوشبو وغیرہ استعمال کرنا جائز نہیں ،عالمگیری میں ہے ۔ علی المبتوتۃ والمتوفی عنھا زوجھا اذا کانت بالغۃ مسلمۃ الحداد فی عدتھا(۵) اور حدیث حضر ت عائشہ ؓ سے روایت ہے ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال لا یحل لامرأۃ تؤمن باللہ والیوم الاخر ان تحد علی میت فوق ثلث الا علی زوج اربعۃ اشھرو عشراً ۔ (۶)اور اس کو عدت کے مکان ہی میں رہنا لازم ہے اور اگر کسی امر ضروری کے لئے مکان سے باہر جانے کی ضرورت ہو تو دن میں یا بعض حصہ رات میں نکلنا درست ہے ، عالمگیری میں ہے المتوفی عنھا زوجھا تخرج نھاراً وبعض اللیل ولا تبیت فی غیر منزلھا (۷) اور عدت کے اندر نکاح کرنا صحیح نہیں ہے ۔
پانچ سال علیٰحدہ رہنے کے باجود
(سوال ۱۰۹۱) ایک لڑکی جس کی عمر آٹھ سال کی تھی ، اس کے والد ن ے برضائے خود ایک شخص سے اس کا نکاح کر دیا تھا، اس کے بعد وہ ایک سال سے کچھ کم اپنی سسرال رہی پھر کسی وجہ سے والدین کے یہاں چلی آئی، اب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)والعدۃ للموت اربعۃ اشھر الخ وعشر الخ ولو صٰغیرۃ (ایضاً ۔ط۔س۔ج۳ص۵۱۰) ظفیر۔
(۲)وسبب وجو بھا عقدۃ النکاح المتأکد خد بالتسلیم وما جریٰ مجراہ من موت اوخلوۃ الخ (ایضا ً ج ۲ ص ۸۲۴۔ط۔س۔ج۳ص۵۰۴)ظفیر۔
(۳)الدر المختار علی ہامش رد المحتار باب المھر ج ۲ ص ۴۶۸۔ط۔س۔ج۳ص۔۱۲ ظفیر۔
(۴)اما نکاح منکوحۃ الغیرو معتدتہ الخ لم یقل احد بجوازہ فلم ینعقد اصلا (رد المحتار باب العدۃ مطلب فی النکاح الفاسدو الباطل ج۲ ص ۸۳۵۔ط۔س۔ج۳ص۵۱۶) ظفیر۔(۵)عالمگیری مصری الباب الرابع عشر فی الحداد ج ۴۷۶۔ط۔ماجدیہ ۔ج۳ص۵۳۳۔ ۱۲ ظفیر۔(۶)مشکوٰۃ عن البخاری و مسلم باب العدۃ ص ۶۸۸ ۱۲ ظفیر۔
(۷)عالمگیری الباب الرابع عشر فی الحداد ج۲ ص ۴۷۷ ۱۲ ظفیر۔