تھا کہ اگر اس کی زوجہ ان کاموں سے کوئی کام کرتی ہے توچاہے وہ طلاق دیتا یا نہ دیتا یعنی اس وعدہ کا ایفاء کرتا یا نہ کرتا، لیکن جب کہ اس نے اپنی ماں سے یہ کہا کہ میں نے شرطیہ طلاق دے دی تو یہ شرطیہ طلاق ہوگئی، (۱)

جب شرط نہیں پائی گئی تو طلاق واقع نہیں ہوئی
(سوال ۶۳۱) زید، بکر ، عمر، خالد ہر چہار چار سیر دانہ گندم میں شریک ہیں ، عمر اور بکر نے کچھ دانہ گندم فروخت کر کے ضروری معاش میں خرچ کر دیا اور زید نے بھی کچھ خرچ کئے ، نیم پائو قدر دانہ گند م جو رہ گیا وہ خالد نے جب دیکھا تو دل میں کہا کہ میرا حصہ بھی تھا ، مگر خالد ہر چہار میں کمزور طالب علم تھا، ا س نے نیم پائو کو بیچ کر مٹی لے کر پار جات رنگ کر دیئے ،زید نے کہا کہ دانہ کہا ں خرچ ہوا ، ہر ایک منکر ہوا ، اس نے کہا سب طلاق اضافی سے کہو تو ہر ایک نے طلاق اضافی سے کہا جب خالد کی باری آئی تو اس نے نیت میں یہ ارادہ کیا کہ میں بھی حصہ دار شریک ہوں چور نہیں ہوں ۔ اس نے کہا میں چور نہیں ہوں اگر چوری کی ہو تو جب میں نکاح کروں تو میرے پر وہ عورت طلاق ہے ، اس صورت میں خالد پر طلاق اضافی عائد ہوگی یا نہیں ۔
(الجواب ) اس صورت میں خالد پر طلاق اضافی عائد نہ ہوگی ، کیونکہ در حقیقت وہ چور نہیں ہے اور اس امر میں وہ صادق ہے کہ میں چور نہیں ہوں ، پس یہ شرط کہ اگر چوری کی ہو الخ اس پر عائد نہیں ہوتی ۔

کا بین نامہ میں ہے کہ اگر جبراً کہیں لے جائوں گا تو آپ کو
علاقہ زوجیت قطع کرنے کا اختیار ہوگا کیا حکم ہے ۔

(سوال ۶۳۲) کا بین نامہ کی شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ آپ کو حسب دلخواہ جگہ میں رکھوں گا ، اور جبراً کہیں نہیں لے جائوں گا ، اگر لے جائوں گا تو آپ کو علاقہ زوجیت قطع کرنے کا اختیار ہوگا ، اب شوہر عورت کو غیر مرضی کی جگہ میں لے جانا چاہتا ہے جس کو عورت ناپسند کرتی ہے ، اس صورت میں عورت کو طلاق کا اختیار ہوگا یا نہیں ۔
(الجواب ) اس صورت میں عورت کو طلاق بائن لینے کا حق حاصل ہوگا کما ھو حکم التعلیق من انہ تنحل الیمین بعدوجود الشرط۔ (۲) در مختار۔
تم نہیں جائوں گی تو طلاق دے دوں گا کہنا وعدہ ہے تعلیق نہیں
(سوال ۶۳۳) اصغر علی سکینہ بی بی سے شادی کر کے سسرال میں رہتا تھا ، بعدہ بیمار ہو کر آپس میں صلح کر کے گھر میں آیا اور دس ماہ تک بدستور میاں بی بی رہے ، بعداس کی زیادہ بیمار ہو کر برائے علاج بنگالہ چلا گیا، اور آپس میں خطوط بھی جاری رہے ، اب اس کی غیبو بت میں سکینہ بی بی سہ طلاق کی دعوے دار ہوئی، باحضار مجلس رو برو دو پیش امام صاحبان اس طرح دعویٰ کیا کہ میرے شوہر نے میرے والد سے لڑائی کے وقت مجھ کو کہا تھاتم میرے ساتھ جائو گی یا نہیں ، سکینہ بولی میں تمہارے ساتھ نہیں جائوں گی ، بعد تکرار مجھ کو تین طلاق دے دیا تھا سکینہ کی خالہ اور
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)صریحہ الخ یقع بھا ای بھذہ الا لفاظ وما بمعنا ھا من الصریح الخ واحدۃ رجعیۃ (رد المحتار باب الصریح ج ۲ ص ۵۹۰ط۔س۔ج۳ ص۲۴۷) ظفیر۔
(۲)الدر المختار علی ہامش رد المحتار باب التعلیق ج ۔ ۲ ص ۶۹۰ ۔ط۔س۔ج۳ ص۳۵۲۔۱۲ ظفیر۔