(الجواب)جمعہ کے صحیح ہونے کے لئے مسجد کا ہونا شرط نہیں ، شہر و فناء شہر میں کسی بھی جگہ مثلاً مکان میں یا ہال میں یا کھلے میدان میں نماز جمعہ درست ہے البتہ اس جگہ اذن عام (یعنی ہر شخص کو نماز پڑھنے کی اجازت ہو یہ) ضروری ہے لیکن مسجد کا ثواب پھر بھی نہیں ملے گاولا یشترط الصلوۃ فی البلد بالمسجد فتصح بقضاء فیھا ۔ طحطاوی علی مراقی الفلاح ص ۲۷۹ باب الجمعۃ۔فقط واﷲ تعالیٰ علم بالصواب۔
عبادت گاہ میں جمعہ کی نماز :
(سوال ۹۶)یہاں (انکلیشور) میں بس اڈے کے قریب اسلامی مسافر خانہ ہے ، جس کے بالائی حصہ میں عبادت گاہ ہے اس میں پنجگانہ نماز باجماعت ہوتی ہی ، قرب و جوار کے بسنے والے (جیسے وی ،ٹی کالج، آئی ، ٹی ، ایس ، ٹی کا عملہ وغیرہ )جن کی تعداد دو سو ہے یہ لوگ مذکورہ عبادت گاہ میں جمعہ کی نماز پڑھنا چاہتے ہیں ، کیونکہ جائے وقوع بس اڈہ اور جامع مسجد میں ایک میل کا فاصلہ ہے اور اسی فاصلہ اور قلت وقت کی وجہ سے بہت سے لوگوں کی نماز جمعہ بسا اوقات فوت ہوجاتی ہے ، تو کیا یہاں جمعہ کی نماز ہوسکتی ہے ؟ بینوا توجروا۔
(الجواب)نماز جمعہ صحیح ہونے کے لئے مسجد کا ہونا شرط نہیں شہر یا قصبہ شرط ہے ولا یشترط الصلوۃ فی البلد بالمسجد فتصح بفضاء فیھا (باب الجمعۃ طحطاوی ص ۲۷۹)لہذا صورت مسئولہ میں مذکورہ عبادت گاہ میں جمعہ پڑھ سکتے ہیں ، لیکن شرعی مسجد نہ ہونے کی وجہ سے مسجد میں نماز پڑھنے کا ثواب نہیں ملے گا ، فقط واﷲ اعلم بالصواب ۔
عبادت خانہ میں دوبارہ جمعہ پڑھنا:
(سوال ۹۷)ہم ٹورنٹو(کینیڈا) کے باشندے نماز جمعہ کے متعلق ذرا تفصیل چاہتے ہیں بایں طور کہ ہمارے کئی مسلمان بھائی بروز جمعہ دن کی ڈیوٹی میں کام کرتے ہیں ، بہت ہی کوشش کے باوجود بروقت جمعہ ادا نہیں کرپاتے، مجبوراً ہم چار سے زائد آدمی ظہر کے وقت میں ایک ایسی جگہ جمعہ کی نماز ادا کرتے ہیں جہاں جمعہ کی نماز وقت مقررہ پر ہوچکی ہوتی ہے ، لہذا صورت مسئولہ میں ہماری نماز جمعہ ادا ہوگی یا نہیں ؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب دے کر ممنون کریں ۔
(الجواب)نماز جمعہ کسی بھی طرح(چاہے مالی نقصان برداشت کرنا پڑے)اس کی اصل جگہ یعنی مسجد میں اور اگر یہ نہ ہوسکے توعبادت خانہ میں جم غفیرکے ساتھ ادا کرے ، اگر وہاں کبھی کبھار پہنچ نہ سکے توایک امام اور کم از کم تین مقتدیوں کے ساتھ کسی اور جگہ یا کارخانہ میں باجماعت ادا کرے ،جہاں امام اور مؤذن مقرر ہو اور پنجگانہ نماز بروقت باجماعت ہوتی ہو وہاں جماعت ثانیہ مکروہ ہے ، مبسوط سرخسی میں ہے ۔ قال(واذا دخل القوم مسجداًقد صلی فیہ اھلہ کرھت لھم ان یصلوا جماعۃ باذان واقامۃ ولکنھم یصلون وحداناً بغیر اذان واقامۃ) لحدیث الحسن قال کانت الصحابۃ اذا فاتتھم الجماعۃفمنھم من اتبع الجماعات ومنھم من صلی فی مسجدہ بغیر اذان والا اقامۃ(مبسوط سرخسی ج۱ ص ۱۳۵)(شامی ج۱ ص۳۶۷ باب الاذان) نیز جماعت ثانیہ کرنے سے جماعت اولیٰ کی اہمیت ختم ہوجاتی ہے ، اصل تو جماعت اولیٰ ہی ہے لوگ سمجھتے ہیں پہلی جماعت ملے تو ٹھیک ہے ورنہ دوسری جماعت کر لیں گے یہ طریقہ غلط ہے ۔