خطبہ کے وقت دوسری اذان مسجد میں دینا:
(سوال ۱۰۷)جمعہ کے وقت دوسری اذان جو خطبہ کے وقت دی جاتی ہے ، عموماً دیکھا گیا کہ منبر کے پاس مسجد میں خطیب کے سامنے دی جاتی ہے ،بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ اذان مسجد میں دینا مکروہ ہے ، اذان مسجد کے باہر دینا چاہئے اورکہتے ہیں کہ بہار شریعت میں بھی اس کو مکروہ لکھا ہے ، اس کی وجہ سے یہاں خلفشار ہے ، جواب با صواب عطا فرمائیں کرم ہوگا ، والسلام بینوا توجروا۔(بڑودا)
(الجواب)اذان دو مقصد کے لئے کہی جاتی ہے (۱)عام اور غائبین لوگوں کے لئے (۲)خاص حاضرین کے لئے ، پہلی اذان عام اعلان ہے تاکہ غائبین مطلع ہوں یہ اذان مسجد میں کہنامکروہ ہے اور دوسری اذان جو خطیب کے سامنے کہی جاتی ہے اور اقامت جو نماز کے وقت کہی جاتی ہے ، یہ دونوں خاص حاضرین کے لئے ہیں ان کا مسجدمیں کہنا ہر گز مکروہ نہیں ، مراقی الفلاح میں ہے والا ذان بین یدیہ جریٰ بہ التوارث(کالا قامۃ ) بعد الخطبۃ (مراقی الفلاح ص ۱۰۳ باب الجمعۃ) اس عبارت میں دوسری اذان کو جو بوقت خطبہ منبر کے پاس خطیب کے سامنے دی جاتی ہے اس کو اقامت کے مانند قرار دیا ہے ، جس طرح اقامت مسجد میں اور عموماً صف اول میں دی جاتی ے اور اس کو کوئی مکروہ نہیں کہتا اسی طرح یہ اذان بھی مسجد میں خطیب کے سامنے کہی جاتی ہے اور سلف و خلف کا یہی معمول اور طریقہ چلا آرہا ہے جس کی طرف جریٰ بہ التوراث سے اشارہ کیا ہے ) لہذا یہ اذان اوراقامت مسجد میں کہنا ہر گز مکروہ نہیں کہ دونوں کا مقصد ایک ہی ہے یعنی حاضرین کو متوجہ اور مطلع کرنا ، غائبین سے اس کاکوئی تعلق نہیں اور بعض کتابوں میں عند المنبرآیا ہے ، عینی شرح ہدایہ میں ہے فی الا صح لحصول الا علام بہ (ای اذان المنارۃ) لانہ لو انتظر الاذان الثانی عند المنبر تفوتہ السنۃ وربما لا یدرک الجمعۃ لبعد محلہ وھو اختیار شمس الا ئمۃ (عینی شرح ہدایہ ص ۱۱۴ایضاً) فقط واﷲ اعلم بالصواب یکم ربیع الاول ۱۴۰۱؁ھ۔
عیدین کے موقعہ پر چندہ کرنا :
(سوال ۱۰۸)عیدین کے موقعہ پر(کبھی مسجد میں نماز ہوتی ہے او رکبھی عید گاہ میں ہوتی ہے ) مسجد کے لئے اسی طرح دینی مدارس یا لاوارث لوگوں کے کفن وغیرہ کے لئے مسجد کے اندر دو شخص ایک کپڑا لے کر صفوں کے درمیان چل کر چندہ کرتے ہیں تو شرعاً یہ فعل کیسا ہے بینواتوجروا۔
(الجواب)اگر نماز سے پہلے یا خطبہ کے بعد ہو تو مضائقہ نہیں ، خطبہ کے دوران اس کی اجازت نہیں ۔
کیا ہرجمعہ نیاخطبۂ پڑھنا ضروری ہے؟:
(سوال ۱۰۹)کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ ہماری مسجدکے امام حافظ قاری ہیں ، آنکھوں سے کچھ معذور ہیں ، کتاب کے اندر دیکھ کر پڑھ نہیں سکتے ، اس لئے انہوں نے پانچ چھ خطبے زبانی یاد کر رکھے ہیں اور وہ جمعہ کے دن ان میں سے ایک ایک خطبہ باری باری پڑھتے رہتے ہیں ، ہمارے محلہ کے بعض لوگ کہتے ہیں کہ ان کے پیچھے خطبہ نہیں ہوتا کیونکہ ہر ماہ ایک خطبہ پڑھتے رہتے ہیں حالانکہ ہر ہفتے اور ہر مہینے کا جو الگ الگ خطبہ ہے وہ پڑھنا چاہئے ، اسی بناء بعض مقتدی دوسری مسجد میں چلے جاتے ہیں ، اس سلسلے میں مفتیان عظام کیا فرماتے ہیں ؟