خطبہ میں عصا پکڑنا مسنون ہے یا نہیں ؟:
(سوال ۱۱۳)خطبہ کے وقت عصا پکڑ نا جائز ہے یا مکروہ؟
(الجواب)صحیح یہ ہے کہ خطبہ کے وقت ہاتھ میں عصا لینا اور سہارا دینا جائز ہے مکروہ نہیں (شرح سفر السعادۃ ص۲۰۹) مگر اس کو ضروری سمجھنا اور عصا نہ لینے والے کو ملامت کرنا مکروہ ہے ۔ کسی مستحب کو اس کے درجہ سے بڑھا دینا بھی مکروہ ہے (مجمع البحار ج۲ ص ۲۲۴)
خطبہ کے وقت درود شریف پڑھے یا نہیں :
(سوال ۱۱۴)جمعہ کے دوسرے خطبہ میں امام صاحب آیۂ کریمہ ان اﷲ و ملائکتہ یصلون علی النبیﷺلخ پڑھیں تو حاضرین درود شریف پڑھیں یا نہیں ؟ افضل کیا ہے ۔ بینوا توجروا۔
(الجواب)خطبہ کے وقت افضل یہی ہے کہ خاموش رہیں یادل میں درود شریف کا تصور کریں ۔ زبان سے نہ پڑھیں ۔ اس وقت درود شریف زور سے پڑھنا کسی کے نزدیک بھی جائز نہیں ۔ کبیری شرح منیہ میں ہے واذا قرأ الا مام ان اﷲ وملائکۃ فعن ابی حنیفہ ومحمد انہ ینصت وعن ابی یوسف انہ یصلی سراً وبہ اخذ بعض المشائخ واکثرھم انہ ینصت وفی الحجۃ لو سکت فھو افضل ۔یعنی حضرت امام ابو حنیفہ اور امام محمد رحمہما اﷲ سے روایت ہے کہ جب آیۂ کریمہ ان اﷲ وملائکتہ پڑھے تو خاموش رہنا چاہئے اور حضرت ابو یوسف سے روایت ہے کہ آہستہ سے پرھے یعنی دل میں پڑھے ۔ بعض مشائخ نے اس قول کو اختیار کیا ہے مگر اکثر مشائخ خاموش رہنے کو پسند فرماتے ہیں اور کتاب الحجۃ میں ہے کہ خاموش رہنا بہتر ہے (کبیری شرح منیۃ فصل فی صلوٰۃ الجمعۃ ص۲۵۰)اور درمختار میں ہے والصواب انہ یصلی علی النبی ﷺعند سماعہ اسمعہ فی نفسہ ۔ یعنی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱) علی أ نہ ثبت ابا موسی الا شعری وھو اسرا لکوفۃ کان یدعو لعمر قبل الصدیق فانکر علیہ تقدیم عمر فشکی الیہ فاستحضر المنکر فقال انما انکرت تقدیمک علی ابی بکر فبلی واستغفرہ والصحابۃ حینئذ متو فرون لا یسکنون علی بد عۃ ۔ باب الجمعۃ)
صحیح یہ ہے کہ خطبہ میں اسم مبارک سن کر اپنے دل میں درود شریف پڑھے اور شامی میں ہے اذا ذکر النبیﷺ لایجوز ان یصلی علیہ بالجھر بل بالقلب وعلیہ الفتویٰ ترجمہ۔جب آپ ا کا نام مبارک لیا جائے تو اس وقت درود شریف زور سے پڑھنا جائز نہیں ہاں دل میں پڑھے فتویٰ اسی پرہے(ج۱ ص ۷۶۸ باب صلوفۃ الجمعۃ) اس مسئلہ میں دیو بندی بریلوی کا بھی اختلاف نہیں بہار شریعت میں ہے ۔ حضور اقدس ا کا نام پاک خطیب نے لیا تو حاضرین دل میں درود شریف پڑھیں اس وقت زبان سے پڑھنے کی اجازت نہیں (بہار شریعت ج۴ ص ۱۰۰)واﷲ اعلم۔
جمعہ کے خطبہ کے وقت پائوں پر پائوں رکھ کر بیٹھنا کیسا ہے؟:
(سوال ۱۱۵)مسجد میں خطبہ کے وقت یا دوسری نماز کے وقت گھٹنے پر پائوں رکھ کر بیٹھنا جیسے امراء بیٹھتے ہیں شرعاً کیسا ہے ؟
(الجواب)اس طرح کی نشست میں تکبر اورگھمنڈ نہ ہو محض ضرورۃً ہوتو جائز ہے (قاضی خان)مگر اس کی عادت بنانا بالخصوص مسجد میں اور وہ بھی خطبہ کے وقت اس کی عادت مناسب نہیں ۔لانہ من عادۃ الجبابرۃ ۔مسجد میں بعجزو خشوع بیٹھنا چاہئے ۔ واﷲ اعلم بالصواب ۔