نماز عید کی پہلی رکعت میں تکبیرات زوائد بھول جائے:
(سوال ۱۵۶)اما م صاحب نماز عید کی پہلی رکعت میں تکبیرات زوائد بھول گئے تو اب کیا کریں ؟
(الجواب)اگر سورۂ فاتحہ کا کچھ حصہ یا پوری سورۂ فاتحہ پڑھنے کے بعد یا د آئے تو تکبیرات کہہ کر سورۂ فاتحہ دوبارہ پڑھے اور اگر سورۂ فاتحہ اور سورۃ پڑھنے کے بعد یاد آئی تو صرف تکبیرات کہے قرأت کا اعادہ نہیں ہے (مجالس الابرار)ولو نسی التکبیر فی الرکعۃ الا ولیٰ حتیٰ، قرأ بعض الفاتحۃ اوکلکھا ثم تذکر یکبرو یعید الفاتحۃ وان تذکر بعد قراء ۃ الفاتحۃ والسورۃ یکبر ولا یعید القرأۃ لا نھا تمّت ولا ن التام لا یقبل النقص مالا عادۃ الخ (مجالس الا براء م ۳۲ ص۲۱۳)(کبیری ص ۵۲۹)
عیدگاہ میں دوبارہ جماعت کرنا:
(سوال ۱۵۷/ا)عید کی جماعت فوت ہوجائے تو عید گاہ میں جماعت ثانیہ کرنا کیسا ہے ؟
(الجواب)عیدگاہ میں دوسری جماعت کرنا مکروہ ہے ۔ جن کی نما ز فوت ہوئی ہو وہ اس مسجد میں جا کر نماز باجماعت ادا کریں جہاں نمازعیدنہ اد اکی گئی ہو۔(۱) واﷲ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
(سوال /۲) جب نماز عید کے لئے عید گاہ جانا مسنون ہے تو وہاں نہ جانے والا عاصی ہوگا یا نہیں ؟
(الجواب)ہاں نماز عید الفطر وعیدالاضحیٰ کے لئے عید گاہ جانا سنت ہدی اور سنت موکدہ ہے بلا عذر نہ جانے والا تارک سنت، قابل ملامت اورلائق عتاب ہے اور عادی اس کا گنہگار ہے ، بحرا لرائق میں ہے ۔ حتی لو صلی العید فی الجامع ولم یوجہ الی المصلی فقد ترک السنۃ (ج۲ ص ۱۵۹ باب العیدین طحطاوی ج۱ ص ۵۶۰۔ کبیری ص ۵۲۹۔عمدۃ الرعایۃ ج۲ ص ۲۴۵ وغیرہ )اور تلویح میں ہے ترک السنۃ الموکدہ قریب من الحرام یستحق حرمان الشفاعۃ اور درمختار میں ہے (ترجمہ) مکروہ تحریمی کا مرتکب گنہگار ہوتا ہے جیسا کہ تارک واجب گنہگار ہوتا ہے اور سنت موکدہ کا کا حکم بھی مثل واجب کے ہے (شامی ج۵ ص ۲۹۵ کتاب الحضر والا باحۃ )فقط واﷲ اعلم بالصواب ۔
نماز عید کے لئے حجرہ کرایہ پر لینا:
(سوال ۱۵۸)ہم انگلینڈ میں ’’لسٹر‘‘ نامی مقام میں رہتے ہیں اور یہاں سے مسجد پچاس میل دور دوسرے شہر میں ہے اور وہ مسجد بھی عید ، جمعہ وغیرہ میں مصلیین کے لئے ناکافی ہے ، وہاں کے باشندوں کو بھی نماز عید کے لئے کرایہ پر مکان رکھنا پڑتا ہے معاً ہم میں اتنی استطاعت نہیں کہ کوئی وسیع جگہ خریدیں لہذا اگر ہم کوئی حجرہ کرایہ پر لے کر نماز عید اس میں ادا کریں تو شرعاً اس میں کوئی حرج تو نہیں ؟
نوٹ:۔ہر عید کے موقع پر ہم یہاں حجرہ کرایہ پر لے کر نماز اس میں ادا کرتے ہیں کیونکہ یہاں دو تین مسلمانوں کے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱) ولا یصلیھا وحدہ ان فاتت مع الامام ولو بالا فساد اتفاقا فی الا صح کما فی تمیم البحر وفیھا بلغزای رجل فسد صلاتہ واجبۃ علیہ القضآء ولا قضآء ، ولو امکنہ‘ الذھاب الی امام آخر فعل لأ نھا تؤدی بمصر واحد فی مواضع کثیرۃ اتفاقا ۔شامی باب العیدین ج۱ص ۷۸۳۔