(الجواب)ہاں جب بچہ نماز میں ہو اور لقمہ دے تونماز فاسد نہ ہوگی(طحطاوی علی مراقی الفلاح ص۱۹۵)(۱)
تراویح میں سجدۂ تلاوت کے بعد سورۂ فاتحہ دوبارہ پڑھے تو کیا حکم ہے؟:
(سوال ۲۰۷)تراویح میں سجدۂ تلاوت ادا کرنے کے بعد بجائے اگلی آیت پڑھنے کے سورۂ فاتحہ پڑھ کر اس کو شروع کرے تو سجدہء سہو ہے یا نہیں ؟ سورۂ فاتحہ کی تکرار ہوتی ہے۔
(الجواب)سورت شروع کرنے سے پہلے اگر سورۂ فاتحہ کو مکرر پڑھ دے تب تو سجدۂ سہو ہوگا۔ کیونکہ فاتحہ کے بعد بلاتاخیر سورۃ شروع کرنا واجب تھا اس میں تاخیر ہوگئی اور واجب کی تاخیر سے سجدۂ سہو لازم ہوتا ہے ۔لیکن صورت مسئولہ میں جب سورۂ فاتحہ کے بعد قرأت شروع کر چکا تھا تو سورت یعنی قرأت شڑوع کرنے میں تو تاخیر نہیں ہوئی فاتحہ کے فوراً بعد شروع کر دی اب اگلا فرض رکوع کا ہے اس کی ادائیگی قرأت کے بعد ہونی چاہئے مگر قرأت کی کوئی حد معین نہیں جتنی چاہے قرأت کرے اور جس جس سورت کی چاہے قرأت کرے رکوع سے پہلے اس کو مختصر اور طویل قرأت کرنے کا اختیار ہے اس میں تطویل وتاخیر سے سجدہ سہو لازم نہیں آئے گا ۔ رد المحتار تحت قولہ کذا ترک تکبیر ھا اما لوقرأ ھا قبل السورۃ مرۃ وبعدھا مرۃ فلا تجب کما فی خانیہ الخ(شامی ج۱ ص ۴۲۹ اباب صفۃ الصلاۃ مطلب فی واجبات الصلاۃ)بخلاف مالوا اعادھا بعد السورۃ (فتاویٰ عالمگیری ج۱ ص۱۲۶۔ا لباب الثانی عشر فی سجود السہو)لہذا اس صورت میں سجدۂ سہو لازم نہیں آئے گا۔
نماز عشاء باجماعت پڑھنے والا تراویح گھر پر پڑھے تو کیا حکم ہے؟:
(سوال ۲۰۸)نماز عشاء باجماعت ادا کرنے والا تراویح گھر میں تنہا پڑھے تو گنہگار ہے یا نہیں ؟
(الجواب)تراویح باجماعت کی ادائیگی سنت مؤکدہ علی الکفایہ ہے ۔ محلہ کی مسجد میں تراویح باجماعت ادا ہوتی ہو اور کوئی شخص اپنے مکان میں تنہا ادا کرے تو گنہگار نہ ہوگا مگر جماعت کی فضیلت سے محروم رہے گا۔ (درمختار مع الشامی ج۲ ص ۶۶۰ باب الوتر والنوافل مبحث صلاۃ التراویح)
(سوال )ہمارے محلہ کی مسجد میں آٹھ رکعت تراویح تک نماز ی رہتے ہیں پھر کم ہوجاتے ہیں تو ہم اس مسجد کو چھوڑ کر دوسری مسجد میں تراویح ادا کریں تو کچھ حرج ہے؟
(الجواب)بیس ۲۰ رکعات تراویح باجماعت محلہ کی مسجد میں ہونا ضروری ہے لہذا آپ لوگوں کو اپنی مسجد میں تراویح پڑھنی چاہئے۔ چاہے مصلی کم ہوں مگر محلہ کی مسجد میں تراویح نہ ہوگی تو سب اہل محلہ گنہگار ہوں گے ۔(شامی ص۶۶۰ ایضاً)
تراویح پڑھانے پر معاوضہ:
(سوال ۲۰۹) حفاظ کرام تراویح کے لئے روپے متعین کرتے ہیں یا متولی سے کہتے ہیں کہ جو آپ چاہیں دیں یا متولی صاحب کہتے ہیں کہ ہم اپنی خوشی سے جو چاہیں گے دیں گے تو اس طرح کی تعیین جائز ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱) فتح المراھق کا لبالغ باب ما یفسد الصلاۃ)