اپنی مرضی جس کو چاہتا ہے مفت دوا دیتا ہے حتی کہ غریب حاجت مند مسلمانوں کے ہوتے ہوئے غیر مسلموں کو بھی مفت دوا دیتاہے ، اب دریافت طلب امور یہ ہیں :
(۱)کیا زکوٰۃ جیسے اہم عبادت جو نماز روزہ وغیرہ کی طرح ایک اسلامی فریضہ ہے اس کی تقسیم کا کام غیر مسلم کر سکتا ہے یا نہیں ؟
(۲)زکوٰۃ کے پیسے غیر مسلموں کو محض خوش کرنے کی غرض سے دیئے جائیں تو جائز ہے یا نہیں ، اور اس ’’کمیٹی‘‘ کو چندہ میں دینے والوں کی زکوٰۃ ادا ہوجائے گی ؟
(۳)بنک کی سودی رقم غریب مسلمانوں کے ہوتے ہوئے غیرمسلم کو دینا جائز ہے؟
(الجواب)زکوٰۃ کی تقسیم کا کام غیر مسلم کو سپرد کرنا جائز نہیں اس میں مسلمانوں کی توہین لازمی آتی ہے اور ایک غیر مسلم کی سرداری مسلمانوں پر ہوگی اور زکوٰۃ کی رقم کا غلط استعمال ہوگا اور زکوٰۃ دہندگان کی زکوۃ ادا نہ ہوگی اور اس کے ذمہ دار ’’ انجمن‘‘ کے منتظمین ہوں گے ۔
درمختار باب العاشرمیں ہے (ھو ’’ای العاشر‘َ حر مسلم ) بھذا یعلم حرمۃ تولیۃ الیھود علی الا عمال (قولہ ھو حر مسلم) ولا یصح ان یکون کافراً لانہ لایلی علی المسلم بالآیۃ بحر والمراد بالآیۃ قولہ تعالیٰ ولن یجعل اﷲ للکافرین علی المؤمنین سبیلا (شامی ج۲ ص ۵۱کتاب الزکوۃ باب العاشر)
غایۃ الا وطار میں ہے ، عاشر آزاد ہے مسلمان ۔ یعنی نہ غلام ہو نہ کافر اس سے معلوم ہوا کہ یہودکو عامل بنانا حرام ہے(غایۃ الا وطار ج۱ ص ۴۵۵ باب العاشر)
(۲)زکوٰۃ کے مصرف غریب مسلمان ہیں ، کسی بھی نیت سے غیر مسلموں کو اگر زکوٰۃ کے پیسے دیئے جائیں گے تو زکوٰۃ ادا نہ ہوگی (ولا یصح دفعھا لکافر )(مراقی الفلاح مع طحطاوی ص ۴۱۸ کتاب الزکوٰۃ)
(۳)دے سکتے ہیں مگر بہتر نہیں ہے ، حاجت مند مسلمانوں کا حق مارنے کے مثل ہے فقط واﷲ اعلم بالصواب ۔
دامادکو زکوٰۃ دینا:
(سوال ۲۰۸)میرے پاس زکوٰۃ اور سود کے پیسے ہیں میرا داماد غریب ہے اور مقروض بھی ہے ، اس کو یہ پیسے دے سکتا ہوں یا نہیں ؟قرض کی ادائیگی کے بعد وہ بچے ہوئے پیسوں سے اپنے گھر کی مرمت کرنا چاہتا ہے تو وہ کرسکتا ہے یا نہیں ؟ اگر وہ اس کے بعد مالدار ہوجائے تو اس کے لئے زکوٰۃ کے پیسوں سے مرمت کئے ہوئے مکان میں رہنا جائز ہوگا یا نہیں ؟ بینوا توجروا۔
(الجواب)داماد غریب ہو تو زکوٰۃ کے پیسے دے سکتے ہیں (۱) اور وہ ان پیسوں سے گھر کی مرمت بھی کرا سکتا ہے اور وہ مستقبل قریب یا بعید میں مالدار ہوجائے تو ا س کے بعد وہ اس گھر کو استعمال کرسکتا ہے ، اس لئے کہ فی الحال تو وہ غریب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱) ویجوز دفعھا لزوجۃ أ بیہ وابنہ و زوج ابنتہ تاتار خانیۃ ،شامی باب المصرف ج۔۲ ص۸۶