(الجواب)عید گاہ میں نماز جنازہ پڑھ سکتے ہیں مکرو ہ نہیں ۔ عید گاہ جملہ احکام میں مسجد کی طرح نہیں تاہم اختلاف سے بچنے کے لئے علیٰحدہ جگہ مقررکر لینا بہتر ہے ۔ لا تکرہ فی المسجد اعدلھا وکذا فی مدرسۃ ومصلی عید لا نہ لیس لھا حکم المسجد فی الا صح ۔
ترجمہ ۔’’ مصلی جنازہ‘‘ یعنی اس مسجد میں جو نماز جنازہ پڑھنے کے لئے بنائی گئی ہے ۔ اور اسی طرح مدرسہ میں یا عید گاہ میں جنازہ کی نماز پڑھنا مکروہ نہیں ۔ اصح یہی ہے کہ کیونکہ عید گاہ جملہ احکام میں مسجد کی طرح نہیں ہے ۔ (طحطاوی علی مراقی الفلاح ص ۳۴۷ج۱ باب احکام الجنائز فصل السلطان احق لصلاتہ)
شاہراہ پر اور لوگوں کے کھیت میں نماز جنازہ مکروہ ہے ۔ویکرہ صلوٰۃ الجنائز فی الشارع واراضی الناس (مراقی الفلاح ص ۱۱۷ ایضاً)فقط واﷲ اعلم بالصواب۔
نماز جنازہ میں تین تکبیر کہے تو کیا حکم ہے؟:
(سوال ۱۷)امام صاحب نے نماز جنازہ میں تین تکبیریں کہہ کر سلام پھیر دیا تو نماز صحیح ہے کہ دوبارہ پڑھی جائے ؟
(الجواب)اس صورت میں نماز جنازہ صحیح نہیں ۔ اعادہ کیا جائے ۔ ہاں اگر تین تکبیر کہنے کے بعد بھول سے سلام پھیر دیا۔ پھرغلطی کا احساس ہوا ۔ اور فوراًایک تکبیر اور کہہ دی اور اس اثناء میں منافی نماز کوئی کام (مثلاً بات یا قبلہ سے سینہ پھیرلینا) نہیں کیا تو نماز صحیح ہوجائے گی ۔ نماز جنازہ میں سجدۂ سہو کی ضرورت نہیں ۔ ولو سلم الا مام بعد الثالثۃ نا سیاً کبر الرابعۃ ولیسلم (مراقی الفلاح ص ۱۱۵ طحطاوی علی مراقی الفلاح ص ۳۴۲ ایضاً) واﷲ اعلم بالصواب ۔
(سوال ۱۸ )کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے جنازہ کی نماز اس طرح پڑھائی ۔ کہ پہلے سورۂ فاتحہ کی قرأت کی ۔ اس کے بعد سورہ والعصر کی ۔ اس کے بعد درود شریف۔ اس کے بعد دعا ء میت بلند آواز کے ساتھ ۔ اس صورت میں جنازہ کی نماز صحیح ہوئی یا نہیں ؟ جواب میں حدیث کا حوالہ ضرور ہونا چاہئے۔ اور حنفی مذہب اور وہابی مذہب کا فرق بیان کر دینا بھی ضروری ہے ۔ اور تین چار علماء کی تصدیق بھی ضروری ہے ۔ اس طرف اس سے بہت سخت نااتفاقی ہورہی ہے ۔ جواب جہاں تک ہوسکے جلد عنایت ہو ۔ بہت کرم ہوگا۔فقط۔احقر عبدالرحیم ۔ مقام کھگول ۔ضلع پٹنہ ۔ صوبہ بہار۔
(الجواب)صوت مسئولہ میں نماز تو ہوگئی ۔لیکن سورۂ فاتحہ وغیرھا اگر بطور قرأت پڑھا گیا ہے جیسا کہ غیر مقلدوں کی عادت ہے تو مکروہ ہے ۔وعند نا تجوزبنیۃ الدعاء وتکرہ بنیۃ القرأ ۃ بعدم ثبوتھا فیھا عنہ علیہ السلام (درمختار مع الشامی ص ۸۱۷ ج۱ باب صلوٰۃ الجنائز مطلب فی صلاۃ الجنازۃ) اور نمازجنازہ میں جو کچھ پڑھا جاتا ہے وہ سراً مسنون ہے ۔ واما الدعاء والثناء والصلوٰۃ فالمسنون فیہ سراً کذا فی البدائع ۔(عمدۃ الرعایۃ علی شرح الوقایۃ ص ۲۵۳ ج۱ باب الجنائز فصل صلوٰۃ الجنازۃ وبعض الفروع والفوائد)
اور حنفی میت کے جنازہ کی نماز کا امام غیر مقلد کو ہر گز نہ بنایا جائے ۔ نماز جنازہ کا مقصد دعاء ہے اور حمد وثناء