کترنا جائز ہے ، اس سے جزاء واجب نہ ہوگی۔(معلم الحجاج ص ۱۹۲،حلق وقصر یعنی بال منڈانا یا کتروانا)۔
زبدۃ المناسک میں ہے ۔ مسئلہ: کسی محرم کے ہاتھ سے حلق نہ کرائے پس اگر محرم سے حلق کرایا تو دیکھنا چاہئے کہ وہ محرم اگر ایسا ہے کہ جو کام حلق سے پہلے کرنے تھے وہ کرچکا ہے، باقی فقط حلق ہی رہتا ہے ، اور یہ حلق کرانے والا بھی ایسا ہی ہے یعنی دونوں ایسے ہیں کہ اب ان کو کوئی ایسا کام نہیں جو حلق سے پہلے کرنا ہو ، اب فقط حلق ہی کرنا ہے، یا اصل میں حلال ہے یا مفردبحج ہے اور رمی کر چکا ہو تو اب یہ اپنے حلال ہونے سے پہلے دوسرے کا حلق کرے تو جائز ہے اور دونوں پر کچھ چیز لازم نہ ہوگی ، کیونکہ اب یہ حلق کرنا ان کو مباح ہے(غنیۃ ،حیات)لیکن حلق سے پہلے لپیں و ناخن نہ لے ورنہ جز الا زم ہوگی مسئلہ : اور اگر دونوں محرم ایسے ہیں کہ ان کو حلق سے پہلے جو کام کرنے تھے وہ باقی ہیں تو اگر ایک دوسرے کا حلق کریں گے تو مونڈنے والے پر صدقہ اور مونڈانے والے پر دم لازم ہوگا(حیات القلوب ازمنیۃ الناسک علامہ ابن الضیاء حنفی اور شرح اللباب اور غنیۃ الناسک میں بھی ایسا ہی ہے ۔ اور بخاری شریف میں باب الجہاد میں صلح حدیبیہ کے احصار میں یہ حدیث صریح ا س کے جواز پردلالت کرتی ہے جن کو حلق سے پہلے جو کام کرنے تھے کر چکے تھے تو دوسرے کا حلق کرسکتے ہیں ، وجعل بعضھم یحلق بعضاً حتی کا دبعضھم یقتل بعضاً غماً (ناقل)(زبدۃ للناسک ص ۱۷۶،۱۷۷، جلد اول ۔ حلق کرنے کا بیان)فقط واﷲاعلم بالصواب ۔
دم جنایت کسی کے ذریعہ دلواسکتا ہے یا نہیں ؟:
(سوال ۱۲۲)ایک شخص سال گذشتہ حج کرکے آئے اور ان سے ایسی جنایت ہوگئی جس سے دم لازم ہوجاتاہے تو کیا ایساشخص حج کو جائے بغیر کسی کے ہاتھوں میں منی میں دم دے سکتا ہے یا نہیں ؟یاخود وہاں جا کر دم دینا ہوگا؟بینواتوجروا۔
(۱)یعنی جب سب ارکان ادا کر چکا ہو اور سرمنڈانے کا وقت آگیا ہو ۱۲ سعید احمد غفرلہ‘۔
(الجواب )اگر ایسی جنایت ہوئی ہو جس سے دم لازم آتا ہوتو خود جا کر دم دینا ضروری نہیں ہے ، کسی کے ذریعہ بھی دم دلواسکتا ہے ، اور اس دم جنایت کے لئے کوئی وقت مقرر نہیں ہے جس وقت چاہے دم دے سکتا ہے ہاں حدود حرم میں دم ذبح کرنا ضروری ہے ۔فقط واﷲاعلم بالصواب۔
احرام کی حالت میں خوشبو دار شربت پینا:
(سوال ۱۲۳)سوڈالیمن اور دیگر مشروبات (شربت)پھلوں کا رس جن میں کچھ نہ کچھ خوشبو ڈالی جاتی ہے احرام کی حالت میں ان مشروبات کا پینا کیسا ہے؟ بینواتوجروا۔
(الجواب )ایسی بوتل، شربت اور پھلوں کا رس جن میں خوشبو ڈالی گئی ہو احرام کی حالت میں نہ پی جائیں ، اگر کوئی محرم تھوڑی مقدار میں ایک مرتبہ پئے گا تو صدقہ (پونے دو کلو گندم یا اس کی قیمت) واجب ہوگا ، اور اگرزیادہ مقدار میں پیا یا تھوڑا تھوڑا دو تین بارپیا تو دم واجب ہوگا، اور جس بوتل میں بالکل خوشبو نہ دالی گئی ہو وہ پینا جائز ہے ۔
شامی میں ہے: وان خلط بمشروب فالحکم فیہ للطیب سواء غلب غیرہ ام لا غیر انہ فی غلبۃ اطیب یجب الدم وفی غلبۃ الغیر تجب الصدقۃ الا ان یشرب مراراً (شامی ج۲ ص ۲۷۷