لا مس فقال النبی ﷺطلقھا قال انی احبھا قال فامسکھا اذا۔(مشکوٰۃ ص۲۸۷)(شامی ج۲ ص۴۰۲)تفسیر روح البیان ج۲ ص۲۰۳)
شادی شدہ عورت زنا کرائے تو کیا حکم ہے؟:
(سوال ۳۲۲ )عورت زنا کرائے تو کیا طلاق واقع ہوگئی۔
(الجواب)زنا سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔البتہ بعض صورتوں میں حرمت مصاہرت ثابت ہو کر عورت خاوند پر ہمیشہ کے لئے حرام ہوجاتی ہے ۔ جیسے کہ عورت اپنے شوہر کے لڑکے سے بدکاری کر ے تو خاوند پر ہمیشہ کے لئے حرام ہوجائے گی لیکن نکاح نہیں ٹوٹے گا کما قال فی الدر المختار(درمختار مع الشامی ج۲ ص۳۸۶۔۳۸۷ باب المحرمات)
معتوہ ومجنون کی طلاق معتبر ہے یا نہیں ؟:
(سوال ۳۲۳ )ایک شادی شدہ جس کی عمر اٹھارہ انیس برس کی ہے وہ مجنون سا ہے ۔ بچوں کی طرح بکتا ہے ۔ ایک دفعہ حالت بخار میں گھروالوں سے جھگڑا کر کے قبرستان گیا ، وہاں سے گائوں پنچایت آفس میں جا کر ایک کاغذ پر طلاق لکھی لیکن الفاظ درست نہ تھے ۔ وہ کاغذ جماعت کے آدمی کودیا ۔ اس نے کہا کہ تحریر درست نہیں ہے ،میرے کہنے کے مطابق لکھ ۔اس نے لکھا۔بعدہ پنچایت کے آدمی کو اور اپنے خسر کو ایک ایک نقل دے دی ، وہ عورت کو لے گئے،مجنون یہ ہونے کے بعد اٹھ کر اپنی ماں سے کہنے لگا کہ میری بیوی کو بلاؤ، تو اس کی والدہ نے کہا تو کیا بکواس کرتا ہے پھر پوری حقیقت کہہ دی ۔ تو مجنون کہنے لگا کہ مجھے کچھ بھی خبر نہیں ، پنچایت کے آدمی نے جو لکھوایا وہ لکھا۔ڈاکٹر کی رائے ہے کہ یہ دیوانہ ہے اس کی سر ٹیفکٹ بھی دی ہے تو یہ طلاق ہوئی یا نہیں ؟
(الجواب)جو صورت بیان کی گئی ہے وہ صحیح ہے تو یہ طلاق معتبر نہیں ۔ شرعی اصطلاح میں ایسے آدمی کو جو مغلوب العقل، قلیل الفہم، پراگندہ دماغ ۔ بے جوڑ باتیں کرے بے ڈھنگا ہو ۔ نہ ٹھیک سوچ سکے نہ ٹھیک کام کر سکے۔ البتہ پاگلوں کی طرح ماردھاڑ اور گالی گلوچ نہ کرتا ہو ایسے شخص کو معتوہ کہا جاتا ہے اور معتوہ کی طلاق معتبر نہیں ہوتی۔حدیث شریف میں ہے ۔ کل طلاق جائز الاطلاق المعتوہ والمغلوب علی عقلہ (مشکوٰۃ ج۲ ص۲۸۴ باب الخلع والطلاق)
یعنی ہر ایک طلاق جائز ہے مگر معتوہ اور مغلوب العقل کی طلاق۔
ان المعتوہ ھو القلیل الفھم المختلطاالکلام الفاسد التدبیر لکن لا یضرب ولا یشتم بخلاف المجنون وید خل المبرسم المغمیٰ علیہ والمدھوش (بحر الرائق ج۳ ص ۲۴۹ کتاب الطلاق تحت قولہ لا طلاق الصبی والمجنون) انا لم نعتبر اقوال المعتوہ مع انہ لایلزم قیل ان یصلی الی حالۃ لایعلم فیھاما یقول ویریدہ الخ (شامی ج ۲ ص ۵۸۷ مطلب طلاق المدھوش)
دبرزوجہ میں وطی سے نکاح باقی رہتا ہے؟:
(سوال ۳۲۴ )اگر اپنی بیوی کی دبر میں وطی کرے تو نکاح بحال ہے یا نہیں ؟