میں مبتلا ہونے کا قوی اندیشہ ہوتا ہے ، معاشرہ میں خرابیاں پیدا ہوتی ہیں اور سب سے بڑھ کر اس سے ابلیس لعین بڑا خوش ہوتا ہے ، چنانچہ حدیث میں ہے۔
عن جابر رضی اﷲ عنہ قال قال رسول اﷲ ﷺان ابلیس یضع عرشہ علی الماء ثم یبعث سرایاہ یفتنون الناس فاد ناھم منہ منزلۃ اعظمھم فتنۃ یجئی احدھم فیقول فعلت کذا وکذا فیقول ما صنعت شیئاقال ثم یجئی احدھم فیقول ما ترکتہ حتی فرقت بینہ وبین امرأ تہ قال (صلی اﷲ علیہ وسلم) فید نیہ منہ ویقول نعم انت قال الا عمش اراہ قال فیلتزمہ ، رواہ مسلم (مشکوٰۃل شریف ص۱۸ باب فی الوسوسۃ)
حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺنے ارشاد فرمایا ابلیس پانی (سمندر) پر اپنا تخت بچھاتا ہے پھر اپنے چیلو کو بھیجتا ہے کہ وہ لوگوں کو گناہ اور فتنوں میں مبتلا کریں ، اور ابلیس کا سب سے زیادہ مقرب اور عزیز وہ چیلہ ہوتا ہے جو سب سے بڑا فتنہ پیدا کرے پس ایک چیلہ آتا ہے اور کہتا ہے میں نے ایسا اور ویسا کیا، ابلیس کہتا ہے تو نے کچھ نہیں کیا آپ نے فرمایاپھر ایک چیلہ آتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے میاں بیوی کے درمیان جھگڑے پیدا کئے ، یہاں تک کہ ان میں تفریق ڈال دی، رسول اﷲﷺارشاد فرماتے ہیں ، یہ سن کر ابلیس اس کو اپنے قریب کرتا ہے ، اس کو گلے لگاتا ہے اور کہتا ہے نعم انت ، تو بہت اچھا ہے (تو نے بڑا کارنامہ انجام دیا (مشکوٰۃ شریف ص ۱۸)
ان تمام باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے فقہا ء کرام رحمہم اﷲ نے تحریر فرمایا ہے کہ فاجرہ عورت کو جب کہ اس کے حقوق ادا کرنے کی امید ہو طلاق دے کر علیٰحدہ کردینا واجب اور ضروری نہیں ہے اپنے ساتھ رکھ کر اس کی اصلاح کی جاسکتی ہے ، علیٰحدہ کر دینے میں اس کے آوارہ ہونے اور بگڑنے کے امکانات اور بڑھ سکتے ہیں ۔
صورت مسئولہ میں اگر عورت صدق قلب سے توبہ کرتی ہو اور یقین دلاتی ہو کہ آئندہ اس قسم کی حرکت نہیں کرے گی اور شوہر کو بھی امید ہو کہ عورت آئندہ عفت اور پاک دامنی کے ساتھ رہے گی اور جن سے بد کاری کی ہے ان سے پردہ کرے گی ، نیز شوہر کو امید ہو کہ ایک دوسرے کے حقوق ادا کریں گے ان حالات میں اگر شوہر عورت کو طلاق نہ دے تو وہ گنہگار نہ ہوگا۔
مذکورہ صورت میں شوہر نوجوان عورت کو چھوڑ کر پردیس چلا گیا یہ بھی مناسب نہیں ہے جس طرح مردوں میں جنسی خواہش ہوتی ہے عورتوں میں بھی ہوتی ہے بلکہ نسبتاً زیادہ ، اور بے پردگی کی وجہ سے مردوں سے اختلاط کے مواقع پیش آتے ہیں تو شیطان کو گناہ میں مبتلا کرنے کا مزید موقع ملتا ہے ، شوہر کو چاہئے کہ اس پہلو کو بھی مد نظر رکھے، فقط واﷲ اعلم بالصواب۔
بیوی اور اس کی نند طلاق کا بیان دے اور شوہر کو کسی بات کا یقین نہ ہو تو کیا حکم ہے؟:
(سوال ۳۵۰) ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ میں تجھے طلاق دے دوں گا اس کے چند گھنٹوں بعدپھر کہا میں تجھے کل طلاق دے دوں گا ، دوسرے روز شوہر نے اپنی والدہ کو مخاطب ہو کر کہا میں اس کو طلاق دے دوں گا (یہ جملہ دو مرتبہ کہا ) اس کی بیوی کا بیان ہے کہ دوسرے روز میرے شوہر نے اس طرح کہا ہے ’’میں طلاق دیتا ہوں ، میں طلاق