طلاق کے بعد کا حیض عدت میں شمار ہوگا یا نہیں ؟:
(سوال ۴۶۳)اگر کسی مرد نے آج تین طلاق دے دی ۔ اور ایک دو روز کے بعد حیض آئے تو کیا یہ حیض عدت میں شمار ہوگا؟
(الجواب)طلاق کے بعد جو حیض آیا وہ عدت میں شمار ہوگا۔ اس کے علاوہ دو حیض دوسرے آجانے کے بعد طلاق کی عدت پوری ہوگی ۔ ابتداء العدۃ فی الطلاق عقب الطلاق وفی الوفاۃ عقب الوفاۃ فتاویٰ عالمگیری ج۱ ص ۵۳۲ایضاً)فقط واﷲ اعلم بالصواب۔
تنگدست عور ت پر بھی عدت وفات لازم ہے :
(سوال ۴۶۴)متوفیٰ عنہا زوجہا پر(یعنی جس عورت کا شوہر وفات پاجائے اس پر ) عدت ضروری ہے لیکن ایک بیوہ عورت کی ایسی حیثیت نہیں ہے کہ عدت میں بیٹھ کر اپنا اور اپنے بال بچوں کا پیٹ پال سکے تو کیا ایسی عوت پر بھی عدت میں بیٹھنا ضروری ہے؟ اگر نہ بیٹھے تو گنہگار ہوگی؟ اگر کوئی شخص اس بیوہ کی مدد کرے اور اس کو عدت میں بٹھائے تو یہ کام باعث ثواب ہے یا نہیں ؟ بینواتوجروا۔
(الجواب)ایسی عورت پر بھی عدت میں بیٹھنا اور چار مہینے دس روز تک سوگ کرنا واجب ہے اگر حمل سے ہو تو بچہ پیدا ہونے تک عدت میں بیٹھنا ضروری ہے ۔بغیر شرعی عذر کے گھر سے نکلنا حرام ہے ، عدت میں نہیں بیٹھے گی تو شرعی قانون کی خلاف ورزی لازم آئے گی اور سخت گنہگار ہوگی ۔گذران کی صورت نہ ہو تو رشتے داروں کو چاہئے کہ انتظام کریں جو بھی مدد کرے گا ثواب کا مستحق ہوگا ۔ اگر کوئی انتظام نہ ہوسکے تب، بھی عدت ساقط نہ ہوگی البتہ اتنی اجازت ہے کہ ملازمت کے لئے دن میں باہر نکلے رات کو اپنے مقام پر آجائے ۔ درمختار میں ہے (زمعتدۃ موت تخرج فی الجدید ین وتبیت) اکثر اللیل (فی منزلھا) لان نفقتھا علیھا فتحتاج للخروج حتی لوکان عندھا کفا یتھا صارت کا لمطلقۃ فلا یحل لھا اخروج فتح الخ وفی الشامی والحاصل ان مدار حل خروجھا بسبب قیام شغل المعیشۃ فیتقدر بقدرہ فمتی انقضت حاجتھا لا یحل لھا بعد ذلک صرف الزمان خارج بیتھا اھ (ج۲ ص ۸۵۴ باب العدۃ)فقط واﷲ اعلم بالصواب ۔
عدت وفات میں پاگل بیوہ کا گھر سے باہر جانا:
(سوال ۴۶۵)میرے خسر صاحب کو وفات پائے ہوئے سوا تین مہینے ہوگئے میری ساس کی عدت پوری ہونے میں کچھ مدت باقی ہے مگر ان کا دماغ ایسا ہوگیا ہے کہ کبھی ہنسنا شروع کرتی ہیں تو بس ہنستی ہی رہتی ہیں اور بالاخانہ سے نیچے بھی چلی آتی ہیں اور باہر جانے کی کوشش کرتی ہیں ، تو کیا شریعت ایسی معتدہ کے لئے باہر جانے کی اجازت دیتی ہے؟ اگر وہ باہر جائیں تو گنہگار ہوں گی یا نہیں ؟ بینوا توجروا۔(از سورت)
(الجواب)بیوہ عورت عدت کے اندر گھریلوکام کے لئے یا رشتے داروں میں کوئی بیمار ہو تو ا س کی بیمار پرسی کے لئے بھی نہیں جاسکتی۔ حرام ہے ۔ عدت میں حج کے لئے بھی جانا جائز نہیں ہے تو بازار جانا کیسے جائز ہوسکتا ہے ۔ اگر خدا