نخواستہ بیوہ پاگل پنے میں باہر نکل آئے تو وہ گنہگار نہیں ہوگی مگر گھر والوں کا فرض ہے کہ اس کی حفاظت کریں ورنہ ورہ گنہگار ہوں گے ۔(شامی وغیرہ)(۱) فقط واﷲ اعلم بالصواب ۔
عدت وفات میں عورت سفر کرسکتی ہے یا نہیں ؟:
(سوال ۴۶۶)میرے شوہر کا انتقال ہوئے سوا مہینہ ہوا ہے اور میں یہاں (سورت) ہوں اور شوہر کا کاروبار مدراس میں ہے ابھی لڑکے کا روبار سنبھال رہے ہیں مگر میری ضرورت محسوس کرتے ہیں اور سرکاری کاغذات پر دستخط کی ضرورت بھی بتلا رہے ہیں تو میں وہاں جاسکتی ہوں یا نہیں ؟ بینوا توجروا۔
(الجواب)شوہر کی وفات کی عدت چار مہینے دس دن ہے حق تعالیٰ شانہ‘ کا ارشاد ہے : والذین یتوفون منکم ویذرون از واجاً یتربصن بانفسھن اربعۃ اشھر وعشراً۔ یعنی تم میں جو مرجائیں اور عورتیں چھوڑ جائیں وہ چار مہینے دد دن اپنے کو روکے رکھیں ( یعنی عدت میں بھی بیٹھیں )(سورٔ بقرہ پ ۲) اور دوسری جگہ فرماتے ہیں واتقوا اﷲ ربکم لا تخرجوھن من بیوتھن ولا یخرجن الا ان یاتین بفا حشۃ مبینۃ ۔ یعنی خدا (کے قانون کی خلاف ورزی) سے ڈرو جو تمہارا رب ہے نہ تو تم عورتوں کو عدت میں ان کے رہنے کے گھروں سے نکالوں اور نہ وہ خود نکلیں ۔(سورۂ طلاق پارہ نمبر ۲۸)
جاہلیت میں (یعنی اسلام سے پہلے )تو ایک سال تک عورت ایک جھونپڑے میں عدت گذارتی اور نہایت میلے کچیلے کپڑے پہنتی جب سال پورا ہوتا تب عدت پوری ہوتی اسلام نے صرف چار مہینے دس دن کی عدت مقرر کی ہے اور پیغمبر اسلام ا نے فرمایا جو عورت اﷲ و قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہے اس کے لئے حلال نہیں کہ کسی میت پر (خواہ باپ ہو، ماں ہو ، بھائی ہو، بیٹا ہو) تین راتوں سے زیادہ سوگ کرے مگر شوہر کی وفات پر چار ماہ دس دن تک سوگ کرنا ضروری ہے (یعنی میلے کچیلے کپڑوں میں رہے ، سر میں تیل نہ ڈالے، خوشبو استعمال نہ کرے ، زیور نہ پہنے، سرمہ نہ لگائے ، مہندی نہ لگائے ، پان کھا کر منہ لال نہ کے، نہ رنگا ہو اکپڑا پہنے ، نہ کسی قسم کی زینت کرے، اور ایسی حالت میں رہے کہ کوئی مرد (اگر اچانک) دیکھ لے تو ا س کی طرف رغبت نہ کرے(۲) مرض کی وجہ سے سر میں تیل ٰڈالنا پڑے، سرمہ لگانا پڑے تو معاف ہے ۔ اور اگر عورت کے پاس کھانے پینے کا انتظام نہیں ہے اور نہ کوئی مدد کرنے والا ہے تو مزدوری کے لئے دن کے وقت نکل سکتی ہے مگر رات گھر میں گذارے، اسی طرح کھیتی باڑی کی حفاظت کرنے والا کوئی نہ ہو اور ناقابل برداشت نقصان پہنچنے کا قوی اندیشہ ہو تو دن میں دیکھ بھال کے لئے نکل سکتی ہے جس ضرورت سے نکلنے کی اجازت ہے اس سے وہ ضرورت مراد ہے کہ ا س کے بغیر چارہ نہ ہو۔ طبیعت کی خواہش کو ضرورت قرار دینا غلط ہے اور عدت کے اندر حج فرض کے لئے بھی سفر نہیں کر سکتی ۔ المعتدۃ لا تسافر لا لحج
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱) ولا تخرج معتدۃ رجعی وبائن لو حرۃ مکلفۃ من بیتھا اصلا لا لیلا ولا نھارا الخ قال فی الشامیۃ تحت قولہ مکلفۃ أخرج الصغیرۃ والمجنونۃ …لکن للزوج منع المجنونۃ والکتابیۃ صیسانۃ لمائہ درمختار مع الشامی فصل فی الحداد ج۔۲ ص ۸۵۳)
(۲) تحدمکلفۃ مسلمۃ ولو امۃ منکوحۃ بنکاح صحیح ودخل بھا بدلیل قولہ اذا کانت معتدۃ بت أوموت… بترک الزنیۃ بحلی او حریر او امتشاط یضیق الا سنان والطیب وان لم یکن لھا کسب الا فیہ والدھن ولو بلا طیب کزیت خالص والکحل والمزعفرالا بعذ ر درمختارمع الشامی ج۔۲ ص۸۴۹ ۔