ولا لغیرہ ۔(فتاویٰ عالمگیری ج۲ ص ۱۶۲ الباب الرابع عشر فی الخداد)(ہدایہ اولین ج۲ ص ۴۱۰)
عزیز واقارب بیمار ہوں توان کی عیادت کے لئے بھی جانے کی اجازت نہیں ہے ، سرکاری معاملہ کے لئے وکیل سے مشورہ کیا جائے کاغذات یہاں بھجے جاسکتے ہوں تو منگوائے جائیں یا پھر مہلت طلب کی جائے ۔ عدت کا عذر قابل قبول نہ ہو تو ڈاکٹر کا سرٹیفکٹ بھیج دیا جائے کہ سفر کے قابل نہیں ہے ۔ اگر کوئی عذر قابل قبول نہ ہو اور نقصان شدید ہونے کا اندیشہ ہو تو سفر کر سکتی ہے مگر نقصان برداشت کر لینا اچھا ہے ۔فقط۔واﷲ اعلم بالصواب ۔
ممتدۃ الطہر کی عدت کتنی ہے؟:
(سوال ۴۶۷)ایک عورت کو دم حیض کافی مدت کے بعد آتاہے ۔ شوہر کے طلاق دینے کے تین ماہ بعد حیض آیا تو اس کی عدت تین ماہ گذرنے سے پوری ہوگئی یا نہیں ؟یا تین حیض ضروری ہیں ؟ جواب مرحمت فرمائیں ۔بینواتوجروا۔
(الجواب)جو لڑکی بالغہ ہے مگر اس کو اب تک حیض نہیں آیا عمر اور دوسری علامات سے بالغہ قرار دی گئی ہے اگر ایسی عورت کو طلاق ہوجائے اور وہ حاملہ بھی نہ ہو تو اس کی عدت تین مہینے ہیں ۔ ایسے ہی آئسہ جس کو بڑی عمر ہونے کی وجہ سے حیض آنا بند ہوگیا ہو اس کی عدت بھی تین مہینے ہیں ۔مذکورہ صورت میں اگر عورت کو حیض آتا ہے اگرچہ تین ماہ میں آتا ہے تو وہ حائضہ ہی شمار ہوگی اور ممتدۃ الطہر کہلائے گی اس کی عدت تین حیض ہیں نہ کہ تین ماہ لہذا تین حیض آنے پر عدت پوری ہوگی والعدۃ فی حق من لم تحض حرۃً ام ام ولد لصغربان تبلغ تسعا او کبرًابان بلغت سن الا یاس او بلغت بالسن۔ وخرج بقولہ لم تحض الشابۃ الممتدۃ بالطھربان حاضت ثم امتد طھر ھا فتعتد بالحیض الی ان تبلغ سن الا یاس جو ھرۃ وغیرہ۔(درمختار مع الشامی ج۲ ص ۸۲۸ باب العدۃ)۔فقط واﷲ اعلم بالصواب۔
شوہر سے دو برس تک جدا رہی تو اس مدت کا شمار عدت میں ہوگا یا نہیں ؟:
(سوال ۴۶۸)ایک پختہ عمر والی لڑکی کی شادی ہوئی ہے شوہر کے ساتھ دس پندرہ دن رہنے کے بعد ماں باپ کے گھر آئی ڈھائی برس ہوگئے شوہر کے پاس نہیں گئی اور اب اس کو طلاق دے دی گئی ہے مہر اور عدت کا خرچ بھی دے دیا۔اس کے لئے عدت ہے یا نہیں ؟ دو ڈھائی برس شوہر سے علیٰحدہ رہی تو یہ مدت عدت میں شمار ہوجائے گی یا نہیں ؟ فی الحال لڑکی اپنے ماں باپ کے گھر نہیں رہتی جس شخص سے اب نکاح کرنا چاہتی ہے اس کے گھر رہتی ہے اور وہ آدمی جس سے نکاح کرنا ہے دوسری جگہ رہتا ہے تو اس میں کوئی حرج ہے ؟ بینوا توجروا۔
(الجواب)جب یہ لڑکی نکاح کے بعد شوہر کے ساتھ رہ چکی ہے تو اس کے لئے عدت ہے اگر مطلقہ حاملہ ہوتووضع حمل سے عدت پوری ہوگی اگر حاملہ نہ ہو تو تین حیض آنے پر عدت پوری ہوگی۔ عدت پوری ہونے سے پہلے دوسرا نکاح درست نہیں اگر نکاح کرے تو معتبر نہیں ۔ اگر کر لیا تو وہ اور معاونین سخت گنہگار ہوں گے شوہر کے گھر کو ڈھائی برس سے چھوڑ دیا ہے تو اس سے عدت کی مدت میں کچھ فرق نہ ہوگا۔ لڑکی ماں باپ کے یہاں یا ایسی جگہ رہ کر عدت گذارے کہ ا س کی عزت اور عصمت پر حرف نہ آئے ۔ نئے خطبہ والے کے مکان میں رہنا خطرہ سے خالی نہیں ہے۔فقط واﷲ اعلم