بالصواب ۔
طلاق کے بعد تین ماہ گذار کر نکاح کرنا :
(سوال ۴۶۹)جب عورت کو طلاق ہوتی ہے تو یہاں یہ مشہور ہے کہ وہ تین ماہ گذار کر دوسرا نکاح کر سکتی ہے کیا یہ صحیح ہے؟بینوا توجروا۔
(الجواب)عورت کی جیسی حالت ہوگی ویسی ہی عدت ہوگی۔عورتوں کی حالتیں یکساں نہیں ہوتیں لہذا عدت بھی یکساں نہیں ۔ عورت کی چار حالتیں ہیں اس کے اعتبار سے اس کی عدت کی مدت ہے ۔
(۱)حاملہ عورت کی عدت وضع حمل ہے ۔ نہ کہ تین ماہ ۔
(۲)جس عورت کو حیض نہ آتا ہو بچپن کی وجہ سے۔ یا عمر سے بالغ ہوئی ہو اور حیض آنا شروع نہ ہوا ہو۔ تو اس کی عدت تین ماہ ہے ۔
(۳)جس عور ت کاحیض بڑی عمر ہوجانے کی وجہ سے قدرۃً بند ہوگیا ہو تو اس کی عدت بھی تین ماہ ہے ۔
(۴)جس عورت کو حیض آتا ہو (خواہ ممتدۃ الطہر ہو ) اس کی عدت تین حیض ہیں مؤطا امام محمد ؒ میں ہے ۔ للحامل حتی تضع ۔ والتی لم تبلغ الحیضۃ ثلثۃ اشھر۔ والتی قد یئست من الحیض ثلثۃ اشھر۔ والتی تحیض ثلث حیض ۔(مؤطا امام محمد ص ۲۱۰ باب المرأۃ یطلقھا زوجھا یملک الرجعۃ الخ) فقط واﷲ اعلم بالصواب ۔
مطلقہ ثلثہ سے عدت کے زمانہ میں صحبت کر لی:
(سوال ۴۷۰)مطلقہ ثلثہ سے شوہر نے یہ جانتے ہوئے کہ عورت مجھ پر حرام ہوچکی ہے عدت کے زمانہ میں اس سے صحبت کر لی تو اس سے عدت پر کچھ اثر پڑے گا ؟ یعنی عدت پھر سے شروع کرنا ہوگی یا نہیں ؟ بینواتوجروا۔
(الجواب)صورت مذکورہ میں عدت پھر سے شروع نہ ہوگی مگر اس زنا کی وجہ سے دونوں شرعی سزا کے مستحق ہیں ۔ واما المطلقۃ ثلاثاً اذا جا معھا زوجھا فی العدۃ مع علمہ انھا حرام علیہ ومع اقرارہ بالحرمۃ لا تستأ نف العدۃ ولکن یرجم الزوج والمرأۃ الخ (فتاویٰ عالمگیری ج۲ ص ۱۶۱ الباب الثالث عشر فی العدۃ)فقط واﷲ اعلم بالصواب ۔
حبلیٰ من الزنا سے اسقاط کے بعد وطی جائز ہے یا نہیں :
(سوال ۴۷۱)جس عورت کو زنا کی وجہ سے حمل ہے اس سے نکاح تو جائز ہے لیکن اگر غیر زانی نے نکاح کیا ہے تو وضع حمل تک اس سے وطی جائز نہیں ۔ لیکن اگر اس عورت نے حمل ساقط کرادیا تو اب اس عورت سے وطی جائز ہوگی یا نہیں ؟بینواتوجروا۔
(الجواب)اسقاط سے رحم صاف ہوجائے ، حمل کا اثر باقی نہ رہے او رخون بھی موقوف ہوجائے تو وطی جائز ہوجائے گی ۔ مگر بچہ کے اعضاء بن جانے اوراس میں جان پڑجانے کے بعد یعنی چار ماہ (ایک سو بیس دن ) کا حمل ہوچکنے کے بعد