(الجواب)بلا شبہ مذکورہ اسکیم اور معاملہ سود اور قمار پرمشتمل ہے ، لہذا حرام ہے یہ اسکیم چلانا یا اس میں شرکت کرنا جائز نہیں ہے ۔(۱) فقط واﷲ اعلم بالصواب ۔
فساد میں دوکان کے نقصان کی تلافی کے لئے کون سی صورت اختیارکرنا مناسب ہے؟:
(سوال ۳۰۱)زید ایک اچھا تاجر ہے فسادمیں اس کا اسٹاک جل کر خاک ہوگیا ، زیادہ سامان ادھار آیا ہوا تھا ، کمپنیوں کا قرض ادا کرنے کے بعد ہی دوسرا مال ملنا ممکن ہے ، دوکان کا بیمہ نہیں تھا، اب معاملہ دوحال سے خالی نہیں ، اول یہ کہ بینک سے قرض لے کر روپیہ ادا کرے تاکہ آئندہ تجارتی سامان پھر انہیں اصولوں پر مل سکے، دوسری صورت یہ کہ جائیداد بیچ کر قرض ادا کیا جائے ، اس صورت میں بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا ، اس حالات میں کیا بینک سے قرض لینے کی گنجائش ہے ، بینوا توجروا، اندور ، ایم پی۔
(الجواب)آج کل کے حالات کے پیش نظر کہ جہاں دشمنوں سے خطرہ ہو چند شرائط کے ساتھ مفتیان کرام نے دوکان کا رخانہ فیکٹری کے بیمہ کی اجازت دی ہے( فتاویٰ رحیمیہ جلد ششم ۱۳۲تا ص۱۳۵)( اسی باب میں ، شدید خطرے کی حالت میں مکان ،دوکان فیکٹری کا بیمہ کرانا ، کے عنوان سے ملاحظہ کیا جائے ۔ازمرتب) یہ فتویٰ تقریباً دو سال ہوئے شائع ہوچکا ہے اور مقامی گجراتی ماہنامہ ’’ حیات‘‘ میں بھی یہ فتویٰ شائع ہوگیا ہے ۔
صورت مسئولہ میں قرض ادا کرنے کا بندوست نہ ہوسکے ، کہیں سے غیر سودی قرض نہ ملتا ہو اور نہ کمپنی آئندہ مال ادھار دینے کے لئے تیار ہو تو اپنی ضرورت کے بقدر مکان وغیرہ رکھ کر ضرورت سے زائد اشیاء فروخت کرکے قرض ادا کرنے کی سبیل نکالی جائے ، اگر اس سے بھی قرض ادا نہ ہو اور سودی قرض لئے بغیر چارہ ہی نہ ہو بالکل مجبور ہوجائے تو بقدر ضرورت سودی قرض لینے کی گنجائش ہے ۔ یجوز للمحتاج الا ستقراض بالربح (الا شباہ والنظائر ص ۱۱۵)البحر الرائق ص۱۲۶ج۶)(فتاویٰ رحیمیہ ص۴۶۱ج۶)( جدید ترتیب کے مطابق ، باب القرض میں کن حالات میں سودی قرض لینے کی گنجائش ہے کے عنوان کے تحت ملاحظہ کیا جائے ۔ ازمرتب) فقط واﷲ اعلم بالصواب ، ۲جمادی الاولیٰ ۱۴۱۰؁ھ۔
غرباء کی امداد کی نیت سے یونٹ ٹرسٹ کے شیئر خریدنا:
(سوال ۳۰۲)مزاج اقدس بخیر ہوگا، خدمت عالی میں گذارش ہے کہ حکومت ھند کی طرف سے منظور شدہ ایک عوامی ادارہ ہے ، جس کا نام ’’ یونٹ ٹرسٹ آف انڈیا‘‘ یہ ادارہ عوام سے سرمایہ لے کر مختلف قسم کے کاروبار میں لگاتا ہے ، پھر اس سے جو آمدنی ہوتی ہے اس میں سے ہر سال سرمایہ داروں کو ان کے سرمایہ پر کچھ فیصد نفع طے کر کے سالانہ نفع تقسیم کرتا ہے ۔
یہ بات واضح رہے کہ اس ادارہ کے منتظمین جمع شدہ سرمایہ عموماً سود ی کاروبار میں لگاتے ہیں مثلاً کچھ سرمایہ کمپنیوں کے پریفرنس شیئر زاورڈ بنیچر شیئر ز میں لگاتے ہیں اور کچھ سرمایہ سرکاری بینکوں کی فکس ڈپوزٹ اور بونڈ میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱) وشرعاً فضل ولو حکما فدخل باالنسیئۃ … خال عن عوض قال فی الشامیۃ تحت قولہ ولو حکما … فضل مالا بالا عوص فی معاوضۃ مال بمال درمختار مع الشامی باب الرباج۵ ص ۱۶۸۔