ورد فی الحدیث (سورۂ نور پارہ نمبر ۱۸ رکوع نمبر ۱۳)
معارف القرآن ادریسی میں ہے: نیز بعض انصار پر جو دو کرم کا اس قدر غلبہ تھا کہ وہ لوگ بے مہمان کے تنہا کھانا گوارہ نہیں کرتے تھے اور اپنی جان پر مشقت گوارہ کرتے تھے اور مہمان کا انتظار کرتے تھے، ان کے بارے میں آئندہ آیت اتری، تم پر کچھ گناہ نہیں کہ ایک جگہ جمع ہو کر اورمل کر کھانا کھائو یا الگ الگ ،ا ور اکیلے اکیلے کھائو ، اور دل میں یہ خیال نہ کرو کہ کس نے کم کھایا اور کس نے زیادہ ، اکیلے اکیلے کھانا بھی جائز ہے مگرمل کر کھانے میں برکت زیادہ ہے (معارف القرآن ادریسی ج۸ ص ۲۹۲)مزید تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو (تفسیر رو ح المعانی ج۱۸ ص ۲۲۱ مطبوعہ مصطفائیہ دیو بند ۔ اور تفسیر مواہب الرحمن ص ۲۴۶، ج۱۸ ص ۲۴۷ پارہ نمبر ۱۸ وتفسیر روح البیان ج۱۸ ص،۱۸،۱۸۲)
تنہاکھانے کا رواج آج کل عام ہوتا جارہا ہے ، غیر اقوام اور فیشن پرستوں نے اسے اپنا یا ہے لہذا مسلمانوں کواس سے اجتناب کرنا چاہئے، خصوصاً اہل علم حضرات کو ۔ امام غزالی رحمہ اﷲ فرماتے ہیں ۔
مھماصارت السنۃ شعار الا ھل البدعۃ قلنا بترکھا خوفأ من التشبہ بھم۔ یعنی جب کوئی سنت مبتدعین کا امتیازی شعاربن جائے تو ہم اس میں ان کے مشابہ بن جانے کے خوف سے اس کو بھی ترک کا فتوی دیں گے (احیاء العلوم ج۲ ص ۲۷۰ بحوالہ التشبہ فی الا سلام ج۱ ص ۱۶۳) اﷲ تعالیٰ سنت کی عظمت اور اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ فقط واﷲ اعلم بالصواب ۔
حالت جنابت میں کھانا پینا کیسا ہے؟:
(سوال ۱۸۹)صحبت کے بعد یا احتلام کے بعد غسل سے پہلے جنبی کے لئے کھانا یا پینا کیسا ہے ؟ حلال ہے یا حرام؟ بعض لوگ بالکل حرام کہتے ہیں ، مردوعورت دونوں کا ایک حکم ہے یا کچھ فرق ہے ؟ بینوا توجروا۔
(الجواب)صحبت یا احتلام کے بعد غسل کرنے سے پہلے کھانے پینے کی ضرورت پیش آئے تو وضو کر لینا چاہئے ، اگر وضو کا بھی موقع نہ ہو تو کم از کم ہاتھ منہ دھو کر کلی کر کے کھانا پینا چاہئے ۔ ہاتھ منہ دھونے سے پہلے جنبی کا کھاناپینا مکروہ ہے ، مردو عورت دونوں کا ایک ہی حکم ہے، حائضہ اس سے مستثنیٰ ہے ا س کے لئے مکروہ نہیں ، فتاویٰ عالمگیری میں ہے : ویکرہ للجنب رجلاً کان اوامرأۃ ان یأ کل طعاماً او یشرب قبل غسل الیدین والفم ولایکرہ ذلک للحائض والمستحب تطہیر الفم فی جمیع المواضع، کذا فی فتاویٰ قاضی خاں (فتاویٰ عالمگیری ۵/ ۲۳۷، کتاب الکراھیۃ ،باب نمبر ۱۱)فقط واﷲ اعلم بالصواب ۔
حاملہ کا مٹی کھانا:
(سوال ۱۹۰)حاملہ عورت کو مٹی کھانے کی رغبت پیدا ہوتی ہے تومٹی کھانا جائز ہے یا نہیں ؟ بینوا توجروا۔
(الجواب)اتنی مقدار کھانے کی اجازت ہے کہ صحت کے لئے مضر نہ ہو ، فتاویٰ عالمگیری میں ہے: اکل الطین مکروہ ذکر فی فتاویٰ ابی اللیث ذکر شمس الائمۃ الحلوائی فی شرح صومہ اذا کان یخاف علی نفسہ انہ لو اکلہ اورثہ ذلک علۃ اوآفۃ لا یباح لہ التنا ؤل وکذلک ھذا فی کل شیء