عبارات مندرجہ بالا سے جب یہ امر ثابت ہوگیا کہ قربانی کی کھالیں فروخت کرنے کے بعد مثل زکوٰۃ وغیرہ کے ان کی قیمت کا صدقہ کردینا واجب ہے ، لہذا ان کے مصارف بھی مصارف زکوٰۃ ہیں اور چونکہ زکوٰۃ ونیز دیگر صدقات میں تملیک شرط ہے اس لئے ان کو تعمیر مسجد وغیرہ میں صرف کرنا ہر گز جائز نہیں ہے کیونکہ تعمیر مسجد میں تملیک نہیں پائی جاتی کما فی الدر المختار لا یصرف الیٰ نحو بناء مسجد والا الیٰ کفن میت وقضاء دینہ (الیٰ) لعدم التملیک وھو الرکن ۔ ھکذا فی فتح القدیر و ھدایۃ وشرح وقایہ وغیرہ ۔
حضرت حکیم الا مت مولانا شاہ اشرف علی صاحب ؒ فتایٰ شرفیہ میں تحریر فرماتے ہیں ۔’’جب کھال فروخت کر دی تو اس کی قیمت کا تصدق کرنا واجب ہے اور تصدق کی ماہیت تملیک سے ماخوذ ہے، کیونکہ یہ صدقہ واجبہ ہے اس لئے ا س کے مصارف مثل زکوٰۃ کے ہیں ۔
اگر کھال کو مسجد کے متولیان یا پیش اماموں کو مسجدیں بنانے کے لئے دے دی جائے کہ یہ لوگ اس کی قیمت کو تعمیر مساجدمیں صرف کریں وہ بھی جائز نہ ہوگا، کیونکہ یہاں بھی شرط تملیک جو رکن ہے پائی نہیں جاتی، کیونکہ تملیک کی معنی ہی یہ ہیں کہ کسی شخص کو مالک بنا دینا، تاکہ وہ بعد مالک ہوجانے کے جو چاہے کرے، اور بصورت مذکورہ اس قسم کا مالک بنایا نہیں جاتا ، بلکہ دینے والے اس لئے دیتے ہیں کہ یہ رقم تعمیر مساجد میں صرف کی جاوے اور یہ تملیک نہیں بلکہ سراسر توکیل ہے قربانی کرنے والے کو ایسا مجاز نہیں کہ کھال کی قیمت تعمیر مساجد میں صرف کرے ویسا ہی ان کو بھی مجاز نہیں کہ کسی دوسرے کو مساجد وغیرہ کی تعمیر میں اسے صرف کر نے کو وکیل بنا وے، کیونکہ جس تصرف کے لئے خود مؤکل کو مجاز نہیں ہے اس کے واسطے دوسرے کو وکیل بنانا بھی جائز نہیں ہے چنانچہ ہدایہ کی کتاب الوکالۃ میں ہے: من شرط الوکالۃ ان یکون الموکل ممن یملک التصرف ویلزمہ الاحکام لان الوکیل یملک التصرف من جھۃ المؤکل فلا بد من ان یکون المؤکل مالکاًلیملک من غیرہ۔
خلاصہ یہ ہے کہ قربانی کی کھال جب فروخت کر دی گئی پھر اس کی قیمت مساجد وغیرہ میں صرف کرنا شرعاً ممنوع ہے اور نہ اسے دوسرے کو اس لئے دینا جائز ہے کہ بعد فروختگی اس کی قیمت تعمیر مساجد میں صرف کریں ۔فقط (مفتی )عزیز الرحمن ۔(فتاویٰ دارالعلوم قدیم ص ۱۸۸،ص۱۸۹ ج۷،۸، عزیز الفتاویٰ)
فتاویٰ رحیمیہ میں بھی ایک جواب شائع ہوا ہے ، ملاحظہ ہو ۔
(الجواب)قربانی کی کھال جماعت کو ہدیۃً نہیں دی جاتی بلکہ بطور وکالت دی جاتی ہے ،لہذااس کی قیمت مستحقین کو تملیکاً دے دی جائے اور جہاں تک ہوسکے جلد ادا کر کے سبکدوش ہوجائیں بلا وجہ شرعی تاخیر کرنا کراہت سے خالی نہیں ، غریبوں کو قرآن شریف اور کتابیں دی جائیں ، غریب بیماروں کی امداد کی جائے ،قربانی کی کھال یا اس کی قیمت کو آمدنی کا ذریعہ ہر گز نہ بنایا جائے غیر مصرف میں رقم استعمال ہوگی تو جماعت کے ذمہ دار گنہگار ہوں گے فقط واﷲ اعلم بالصواب،(فتاویٰ رحیمیہ جلد ششم ص ۱۶۷ اردو)(جدیدترتیب میں اسی باب میں ملاحظہ کریں ۔مرتب) فقط واﷲ اعلم بالصواب ۔